
رپورٹ کے مطابق حالیہ حملوں میں ایران کے توانائی کے شعبے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد تہران کے کئی علاقوں میں زہریلے دھوئیں کے بادل چھا گئے تھے۔ بعض مقامات پر تیزابی بارش جیسی صورتحال کی خبریں بھی سامنے آئیں، جس سے عام شہریوں کی صحت پر سنگین اثرات کے خدشات پیدا ہوئے۔ انہی خدشات کے پیش نظر ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ ایران کے تیل کے ذخائر اور توانائی کے ڈھانچے پر حملوں سے گریز کیا جائے۔
امریکی حکام کا ماننا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنانے سے ایرانی عوام کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا مقصد ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف کھڑا کرنا ہے، نہ کہ انہیں ضروری سہولیات سے محروم کر دینا۔ اس پس منظر میں امریکی پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ اگر توانائی کے شعبے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تو اس کے اثرات عام شہریوں پر زیادہ پڑیں گے۔




