’کیا امریکہ طے کرے گا کہ ہم تیل اور گیس کس سے خریدیں گے؟‘ راہل گاندھی نے لوک سبھا میں پوچھا سوال

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 12, 2026359 Views


راہل گاندھی نے کہا کہ آبنائے ہرمز بند ہے۔ دنیا کا 20 فیصد تیل وہاں سے آتا ہے۔ گیس کی قلت ہے، اور یہ صرف ابتدا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی، گرافکس ’ایکس‘ @INCIndia</p></div><div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی، گرافکس ’ایکس‘ @INCIndia</p></div>

i

user

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے امریکہ و اسرائیل کے ذریعہ ایران کے خلاف شروع کی جنگ سے پیدا حالات اور اس کے ممکنہ انتہائی سنگین نتائج پر اپنی بے باک رائے ایوانِ زیریں میں رکھی۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں اس جنگ کا وسیع اثر دکھائی دینے لگا ہے، گیس کی قلت سے لوگ پریشان ہیں، ہوٹل و ریستوران بند ہونے کے دہانے پر ہیں۔ راہل گاندھی نے لوک سبھا میں کہا کہ ’’کسی بھی ملک کی بنیاد اس کی توانائی سیکورٹی ہوتی ہے۔ کیا امریکہ یہ طے کرے گا کہ ہم تیل اور گیس کس سے خریدیں گے؟‘‘

ہندوستان میں پیدا موجودہ حالات کے لیے راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انھوں نے کہا کہ پی ایم مودی نے امریکہ کے سامنے ’سرینڈر‘ کر دیا ہے، اس لیے امریکہ دباؤ ڈال کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ حزب اختلاف کے قائد نے سوال کیا کہ ’’کیا امریکہ طے کرے گا کہ ہم روس سے تیل خریدیں گے یا نہیں۔ ہمارے تعلقات کس ملک سے کیسے ہوں گے، کیا یہ وہ (ٹرمپ) طے کریں گے۔ کیا ہم امریکہ کے کہنے پر تیل خریدیں گے؟‘‘

راہل گاندھی نے ایران کے ذریعہ آبنائے ہرمز بند کیے جانے کا ذکر بھی اپنی تقریر کے دوران کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آبنائے ہرمز بند ہے۔ دنیا کا 20 فیصد تیل وہاں سے آتا ہے، گیس کی قلت ہے، اور یہ صرف ابتدا ہے۔‘‘ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’امریکہ کو فیصلہ لینے کی اجازت کس نے دی؟ ہم روس سے تیل کیوں نہیں لے سکتے؟ یہ کمپرومائز ہے۔‘‘ انھوں نے مرکزی وزیر برائے پٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہاں پٹرولیم وزیر بیٹھے ہیں۔ انھوں نے خود بولا ہے کہ وہ ایپسٹین کے دوست ہیں۔‘‘ جیسے ہی راہل نے ایپسٹن کا ذکر کیا، ایوان میں ہنگامہ شروع ہو گیا۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے بھی کہا کہ جس موضوع پر نوٹس دیا ہے، اسی پر بولیے۔ جواب میں راہل گاندھی نے وضاحت کی کہ وہ موجودہ حالات پر ہی بات رکھ رہے ہیں۔

بعد ازاں ہردیپ سنگھ پوری نے بھی لوک سبھا میں اپنی بات رکھی۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان 40 ممالک سے خام تیل خرید رہا ہے۔ آبنائے ہرمز سے 20 فیصد آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔ ہندوستان کے خام تیل کی پوزیشن محفوظ ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں ڈیزل و پٹرول کی کوئی دقت نہیں ہے۔ ہندوستان کے پاس موافق ڈیزل و پٹرول ہے۔ قدرتی گیس کے لیے ترجیحات بھی طے کی گئی ہیں۔

مرکزی وزیر نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ کالابازاری کی وجہ سے ملک میں افرا تفری والی حالت پیدا ہوئی ہے۔ گھریلو گیس کا پروڈکشن 28 فیصد بڑھا ہے اور متبادل راستوں سے لگاتار خام تیل آ رہا ہے۔ ہندوستان طویل مدت تک حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے کمیٹی بھی بنائی ہے جو کہ سبھی پارٹیوں سے بات کر رہی ہے۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ گھریلو فراہمی پوری طرح محفوظ ہے اور بکنگ سے ڈیلیوری کا معیاری وقت اب بھی 2.5 دن ہی بنا ہوا ہے۔ غیر رجسٹرڈ ڈائیورزن کو روکنے کے لیے او ٹی پی پر مبنی ڈیلیوری کو 50 فیصد سے بڑھا کر 90 فیصد کیا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لوک سبھا میں جب ہردیپ سنگھ پوری اپنی بات رکھ رہے تھے، تو درمیان میں اپوزیشن اراکین کی جانب سے ’دیکھو دیکھو کون آیا، ایپسٹین کا دوست آیا‘ نعرہ بلند کیا جا رہا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...