پاکستان نے افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں کئی فضائی حملے کیے تھے، جن میں بڑی تعداد میں بے گناہ لوگوں کی موت ہوئی تھی اور بہت سارے لوگ زخمی بھی ہوئے تھے۔ 20 اور 21 فروری کو ہوئے ان حملوں کے بارے میں پاکستان کا کہنا تھا کہ وہ دہشت گردانہ واقعات کے جواب میں کیے گئے تھے اور حملے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ چند روز قبل 17 مارچ کو پاکستان نے کابل کے ’امید اسپتال‘ پر حملہ کیا تھا جس میں بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک ہوئے تھے، تقریباً 400 لوگوں کی موت ہوئی تھی اور 250 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ تاہم افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) نے ہلاکتوں کی تعداد 143 بتائی ہے۔
20 مارچ کو لی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں کابل کے ’امید اسپتال‘ پر حملے کے بعد کا منظر صاف دکھائی دیتا ہے، جو پاکستان کی جانب سے بے گناہوں پر کیے گئے حملے کا واضح ثبوت ثابت ہو رہا ہے۔ یہ 2000 بیڈ والا بڑا اسپتال تھا، جس کی وسیع چھت اور آس پاس کئی سہولیات موجود تھیں جو اب ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ ڈھانچہ کسی بھی طور پر فوجی ٹھکانوں جیسا معلوم نہیں ہوتا۔ ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ کمپلیکس پہلے ’کیمپ فینکس‘ نامی ناٹو بیس تھا، جسے امریکی فوج چلاتی تھی۔ 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اسے افغانستان کا سب سے بڑا ’منشیات کی لت سے نجات کا مرکز‘ بنا دیا گیا۔ واضح رہے کہ کابل بین الاقوامی ہوائی اڈہ سے تقریباً 3 میل کے فاصلے پر واقع یہ اسپتال وزارت داخلہ کے تحت چلایا جاتا ہے جو ملک میں منشیات کے خلاف کارروائیوں کی نگرانی بھی کرتی ہے۔
واضح رہے کہ فروری میں پاکستان کی جانب سے افغانستان میں فوجی ٹھکانوں پر کیے گئے درجن بھر فضائی حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ اسے گزشتہ کئی سالوں کا سب سے سنگین ٹکراؤ مانا جا رہا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2600 کلومیٹر طویل سرحد مشترک ہے۔ دوسری جانب امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ پر عالمی توجہ مرکوز ہونے کی وجہ سے، اس تنازعہ کو بین الاقوامی سطح پر نسبتاً کم کوریج مل رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان نے افغانستان (کابل) کے ’امید اسپتال‘ پر پاکستان کے فضائی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اسے بزدلانہ اور نہتے شہریوں پر غیر انسانی حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’اسے فوجی کارروائی نہیں کہا جا سکتا، بلکہ پاکستان نے ایک قتل عام کو آپریشن کا نام دیا ہے۔‘‘ اس کے علاوہ ہندوستان نے 17 مارچ کو ہونے والے حملے میں زخمیوں کی مدد کے لیے 2.5 ٹن ایمرجنسی ادویات، طبی آلات اور ضروری سامان کابل بھیجا ہے۔ ہندوستان نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ افغانستان کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور مستقبل میں بھی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد جاری رکھے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

































