کیا اسکرپٹ پہلے ہی لیک ہو چکا تھا؟

AhmadJunaidJ&K News urduJanuary 9, 2026360 Views


آئی-پیک (انڈین پولیٹیکل ایکشن کمیٹی) کے کولکاتا دفتر پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی کارروائی یوں تو ایک تفتیشی قدم کے طور پر کی گئی، لیکن اس نے ایک بڑے سیاسی بیانیے کو جنم دیا ہے۔ اس پورے معاملے کا مرکزی نکتہ کسی ایک الزام یا قانونی شق سے زیادہ ٹائم لائن بن کر سامنے آیا ہے، یعنی یہ کہ کس نے، کب اور کس زبان میں سب سے پہلے بات کی۔ ای ڈی کے باضابطہ بیان سے قبل بی جے پی کی مغربی بنگال یونٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ آ جانا ہی وہ لمحہ تھا جسے ترنمول کانگریس نے اپنے بیانیے کی بنیاد بنایا۔

ترنمول کانگریس کا دعویٰ ہے کہ اگر ای ڈی کا بیان بعد میں آیا اور سیاسی جماعت پہلے بول پڑی، تو اس کا مطلب یہی ہے کہ کارروائی کی کہانی پہلے سے لکھی جا چکی تھی۔ پارٹی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’ای ڈی کا بیان؟ بی جے پی پہلے ہی اسکرپٹ لیک کر چکی تھی۔‘‘ اس دعوے کے ذریعے ترنمول نے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ مرکزی تفتیشی ایجنسیاں اور حکمراں جماعت کا سیاسی و ابلاغی نظام محض ہم آہنگ ہی نہیں بلکہ باقاعدہ طور پر ہم وقت ہیں۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...