
آزادی کا اصل مفہوم یہ ہے کہ ہم اپنے فیصلے خود کر سکیں اور اپنی پالیسیوں کے لئے کسی دوسرے ملک پر انحصار نہ کریں۔ غلامی کے دور میں ہندوستان کو اپنے فیصلوں کا اختیار نہیں تھا۔ انگریز حکومت یہ فیصلہ کرتی تھی کہ ہم سے کتنا لگان لیا جائے گا، کس چیز کی پیداوار پر ٹیکس لگے گا اور کون سا قانون نافذ کیا جائے گا۔ ہندوستانی عوام کے پاس ان فیصلوں پر اعتراض کرنے یا ان کو بدلنے کا کوئی حق نہ تھا۔ آزادی کا مطلب یہی ہے کہ اب کوئی غیر ملکی طاقت ہم سے یہ نہیں کہہ سکتی کہ ہمیں کس طرح جینا ہے یا اپنے وسائل کس طرح استعمال کرنے ہیں۔
15 اگست 1947 کو جب ہندوستان آزاد ہوا تو ہمارے قائدین نے یہ فیصلہ کیا کہ جو بھی قدم ملک کے حق میں ہوگا، وہی اٹھایا جائے گا۔ اُس وقت دنیا دو بڑی طاقتوں میں تقسیم تھی، ایک طرف امریکہ کی قیادت میں مغربی بلاک تھا اور دوسری طرف سویت یونین کے زیرِ سایہ کمیونسٹ بلاک۔ دونوں طاقتیں ہندوستان جیسے بڑے ملک کو اپنی طرف کھینچنے کی خواہاں تھیں۔ لیکن ہندوستان نے ایک نئے راستے کا انتخاب کیا۔ ہم نے کسی طاقت کے زیرِ اثر آنے کے بجائے غیر وابستہ تحریک کی قیادت کی، جس نے دنیا میں ایک تیسری راہ متعارف کرائی۔






