
تمام کشمیری طالب علموں کو یا تو کشمیر کے اندر یا پھر ان علاقوں کے کالجوں میں بھیجا گیا ہے جہاں مسلمانوں کی خاصی آبادی ہے۔ اس سے طلباء اور ان کے اہل خانہ کی پریشانیوں کو بڑی حد تک دور کر دیا گیا ہے۔ اس دوران کشمیر میں موسم سرما کی چھٹیاں ختم ہوتے ہی طلباء نے کلاس جوائن کرلی ہے حالانکہ طلباء میں اس بات پر تشویش ضرور پائی جاتی ہے کہ جو وقت پڑھائی کا ضائع ہوگیا ہے اس کی تلافی کیسے ہوگی۔ خاص طور اناٹومی جیسے مشکل مضمون کے بارے میں کئی طلباء فکر مند ہیں۔






