تھائی لینڈ کے جنوبی صوبہ سونگ کھلا میں آج شام ایک اسکول میں مسلح فرد نے اندھا دھند فائرنگ کی اور کئی طلبہ و اساتذہ کو یرغمال بنا لیا تھا۔ پولیس نے سخت مشقت کے بعد ان کو آزاد کرایا۔ خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق سونگ کھلا صوبہ کے ایک اسکول میں نامعلوم تعداد میں طلبہ اور اساتذہ کو یرغمال بنا لیا گیا تھا، جنھیں اب آزاد کرا لیا گیا ہے۔ یہ واقعہ ضلع ہات یائی کے پاتونگ سب ڈسٹرکٹ میں واقع پاتونگ پراتھان کھیری وٹ اسکول میں پیش آیا ہے۔
’ہندوستان ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے بدھ کی شام کو کہا کہ ’’جنوبی تھائی لینڈ کے ضلع ہات یائی کے ایک اسکول میں فائرنگ کے بعد یرغمال بنائے گئے تمام طلباء اور اساتذہ کو رہا کرا لیا گیا ہے۔‘‘ اس بارے میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ وچیان سوبون نے رائٹرز کو بتایا کہ واقعہ کے ذمہ دار بندوق بردار کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ کچھ لوگوں کے زخمی ہونے کی خبر ہے، لیکن اس سلسلے میں مصدقہ طور پر کچھ بھی سامنے نہیں آیا ہے۔
تھائی لینڈ کی مقامی میڈیا کے مطابق حملہ آور نے اسکول میں داخل ہو کر فائرنگ کی، جس میں ایک استاذ زخمی ہو گئے، انہیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں بچوں سمیت کئی افراد کے زخمی ہونے کی خبر ہے، لیکن زخمیوں کی حتمی تعداد کے متعلق اب تک کوئی آفیشیل اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ حملہ کے بعد تھنگ لُنگ پولیس اسٹیشن اور اسپیشل آپریشنس یونٹ نے اسکول کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔ ریسکیو ٹیم نے بھی موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔
’تھائی راتھ نیوز‘ کے مطابق مشتبہ شخص کی شناخت 18 سال کے کھیم کے طور پر ہوئی ہے۔ اس نے اسکول کے فرسٹ فلور پر پبلک ریلیشنس روم میں ایک خاتون اسٹاف کو یرغمال بنایا تھا۔ کچھ رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ ایک میتھایوم 5 (گریڈ 11) کے طالب کو بھی یرغمال بنایا گیا تھا۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسکول کی چھٹی کے بعد طلبہ گھر جا رہے تھے۔
مائے تپتیم یالا فاؤنڈیشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’فیس بک‘ پر سب سے پہلے اس کے متعلق اطلاع دی تھی۔ اب تک موت کی کوئی خبر نہیں ہے، لیکن زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ تھائی حکومت اور پولیس نے لوگوں سے پرامن رہنے اور افواہوں پر یقین نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ تھائی لینڈ میں بندوق کے ذریعہ تشدد پھیلانے کا معاملہ پہلے بھی سامنے آ چکا ہے، جیسے 2022 میں ایک سابق پولیس اہلکار نے ڈے-کیئر سنٹر میں 37 لوگوں کو قتل کر دیا تھا، جس میں زیادہ تر بچے تھے۔ لیکن اسکول میں یرغمال بنانے والا یہ معاملہ بہت سنگین ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

































