کلائمیٹ کانفرنس کی میزبانی سے ہندوستان دستبردار، ماہرین نے مایوسی کا اظہار کیا

AhmadJunaidJ&K News urduApril 9, 2026358 Views


ہندوستان 2028 میں ہونے والے 33 ویں سالانہ کلائمیٹ کانفرنس (سی او پی 33) کی میزبانی سے دستبردار ہو گیا ہے۔ ماہرین نے اس فیصلے کو ’اسٹریٹجک موقع گنوانے‘ سے تعبیر کرتے ہوئے عالمی کوششوں کے لیے بڑا ’دھچکا‘ بتایا ہے۔

نومبر 2025 میں برازیل میں منعقدہ سی او پی  30کے دوران کلائمیٹ چینج سے نمٹنے کے لیے فنڈنگ کا مطالبہ کرتے ہوئے سول سوسائٹی گروپوں کی ایک فائل فوٹو۔ (تصویر: حبیب سمادوف/یو این کلائمیٹ چینج)

بنگلورو: ہندوستان 2028 میں ہونے والے 33ویں سالانہ کلائمیٹ کانفرنس (سی او پی 33) کی میزبانی سے دستبردار ہو گیا ہے۔ یہ جانکاری کلائمیٹ ہوم نیوز کی 2 اپریل کی ایک رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے دسمبر 2023 میں سی او پی28کے دوران دبئی میں کہا تھا کہ ہندوستان سی او پی33کی میزبانی کا متمنی ہے۔ اس وقت ماہرین نے اسےہندوستان کی جانب سے ایک مضبوط پیغام قرار دیا تھا۔

اب ماہرین اس فیصلے کو ’اسٹریٹجک موقع گنوانے‘ سے تعبیر کرتے ہوئے عالمی کوششوں کے لیے’دھچکا‘قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین نے دی وائر کو بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ جیسے حالیہ تناؤ کے باعث ہندوستان سمیت کئی ممالک محتاط رویہ اپنا رہے ہیں، جس میں محدود ماحولیاتی اہداف طے کرنا اور روایتی ایندھن کے توسط سے  قلیل مدتی توانائی سلامتی کو ترجیح دینا شامل ہے۔

ہندوستان کی دستبرداری

رپورٹ کے مطابق، ماحولیات، جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری رجت اگروال نے 2 اپریل کو ایک خط کے ذریعے یو این ایف سی سی سی کے ایشیا-پیسیفک گروپ کو اس فیصلے سے آگاہ کیا۔

چار پیراگراف کے اس خط میں کہا گیا کہ 2028 کے لیے اپنی ماحولیاتی وابستگیوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم، کوئی اور صاف وجہ بیان نہیں کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان نے یہ بھی کہا کہ وہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ ماحولیاتی اقدامات میں تعاون جاری رکھے گا اور میزبانی کے لیے یشیا-پیسیفک ممالک کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

اب تک مرکزی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا  ہے۔

’اسٹریٹجک موقع سے محرومی‘

ماحولیاتی کارکن اور ستت سمپدا کلائمیٹ فاؤنڈیشن کے بانی ڈائریکٹر ہرجیت  سنگھ نے اس فیصلے کو ’اسٹریٹجک موقع سے محرومی‘قرار دیا۔

انہوں نے کہا،’ہندوستان نے جس تیزی سے گرین اکانومی کی طرف پیش رفت کی ہے، اس کے باوجود اب اس نے قابل تجدید توانائی، الکٹرک موبیلیٹی اور دیگر حصولیابیوں کو عالمی سطح پر پیش کرنے کا موقع گنوا دیا ہے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سے ہندوستان گلوبل ساؤتھ کی آواز بلند کرنے کے ایک اہم پلیٹ فارم  سےبھی محروم ہو رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ترقی پذیر ممالک کی ضروریات کو مرکز میں رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا،’سی او پی 33 وہ پلیٹ فارم ہونا چاہیے تھا، جہاں ہندوستان تاریخی اخراج کے لیے جوابدہی کا مطالبہ کرتا اور یہ یقینی بناتا کہ گرین اکانومی کی طرف منصفانہ منتقلی دنیا کے کمزور ترین لوگوں کی توانائی تک رسائی کی قیمت پر نہ ہو۔ ‘

عالمی کوششوں کے لیے ’دھچکا‘

کلائمیٹ ایکشن نیٹ ورک ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹر سنجے وششٹھ نے دی وائر سے بات چیت میں اس فیصلے کو عالمی ماحولیاتی ایجنڈے کے لیے ’دھچکا‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی ماحولیاتی پالیسی ہمیشہ انصاف اور اخلاقیات پر مبنی رہی ہے اور وہ ترقی یافتہ ممالک کو ان کی ذمہ داریوں کی یاد دلاتا رہا ہے، ایسے میں اس پیشکش سے پیچھے ہٹنا عالمی کوششوں کو کمزور کرتا ہے۔

دسمبر 2023 میں جب مودی نے میزبانی کی پیشکش کی تھی، تب وششٹھ نے اسے’اہم‘قرار دیا تھا۔

ڈاؤن ٹو ارتھ کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان کو اپنی وابستگیوں پر عمل کرتے ہوئے زمینی سطح پر قیادت دکھانی ہوگی، خاص طور پر فوسل فیول کے استعمال میں کمی لانے کے معاملے میں۔

ایران-امریکہ کشیدگی کا اثر؟

ہرجیت سنگھ نے کہا کہ موجودہ جیو پولیٹکل حالات اور تنازعات نے ہندوستان سمیت کئی ممالک کو محتاط رویہ اپنانے پر مجبور کیا ہے، جس میں محدود ماحولیاتی اہداف اور روایتی ایندھن کے ذریعے قلیل مدتی توانائی سلامتی کو ترجیح دینا شامل ہے۔

انہوں نے دی وائر سے کہا، ’تاہم، مجھے پورا یقین ہے کہ یہ ایک عارضی مرحلہ ہے، مستقل تبدیلی نہیں۔ ہندوستان کا قابل تجدید توانائی کا شعبہ پہلے ہی اپنی وابستگیوں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ آخرکار ہندوستان کے لیے حقیقی توانائی سلامتی اور پائیداری صرف قابل تجدید ذرائع سے ہی ممکن ہے، اور یہ تبدیلی پہلے ہی جاری اور ناگزیر ہے۔‘

ہندوستان کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک ماہ سے بھی کم عرصہ پہلے مرکزی کابینہ نے پیرس معاہدے کے تحت ہندوستان کی تیسری قومی سطح پر طے شدہ شراکت (این ڈی سی) کو منظوری دی تھی۔

ہندوستان کے نئے اہداف میں شامل ہیں- 2035تک 2005 کے مقابلے میں جی ڈی پی کی اخراجی شدت میں 47 فیصد کمی،2035 تک کل نصب شدہ بجلی کی صلاحیت کا 60 فیصد غیر فوسل ایندھن ذرائع سے حاصل کرنااور2035تک جنگلات اور درختوں کے ذریعے 3.5 سے 4.0   ارب ٹن سی او₂کے مساوی کاربن سنک تیار کرنا۔

تاہم ،ماہرین کا کہنا ہے یہ اہداف ’کم حوصلہ افزا‘ہیں اور ہندوستان کی صاف توانائی کی صلاحیت کو کم کرکےدیکھتے ہیں۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...