
جب ایران کے موقف پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر کو فکرمند ہونا چاہیے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’میں کہوں گا کہ انہیں بہت زیادہ فکرمند ہونا چاہیے۔‘‘ عرب اور مسلم ممالک نے وہائٹ ہاؤس سے اپیل کی کہ وہ بات چیت کو چھوڑے نہیں۔ اس کے بعد دونوں فریق پھر سے بات چیت کی میز پر لوٹنے کو تیار ہوئے۔ ایران کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا واحد ایجنڈا یہی ہوگا کہ اس کا جوہری پروگرام فوجی مقاصد کے لیے نہیں ہے۔ وہ اپنے ملک میں یورینیم کی افزودگی کا حق برقرار رکھنا چاہتا ہے اور اپنے یورینیم کو باہر بھیجنے سے انکار کرتا ہے۔ روس نے کہا ہے کہ یورینیم اپنے یہاں رکھنے کی اس کی تجویز اب بھی برقرار ہے۔






