کشمیری علیحدگی پسند لیڈر اور ممنوعہ تنظیم ’دخترانِ ملت‘ (ڈی ای ایم) کی سربراہ آسیہ اندرابی کو دہلی کی عدالت سے بڑا دھچکا لگا ہے۔ عدالت نے یو اے پی اے معاملہ میں آسیہ اندرابی کو ممنوعہ تنظیم کی قیادت کرنے اور ہندوستان کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش تیار کرنے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ ان کی 2 ساتھیوں صوفی فہمیدہ اور ناہیدہ نسرین کو 30-30 سال کی سزا سنائی گئی۔
قابل ذکر ہے کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی عدالت نے آسیہ اندرابی اور ان کی دونوں ساتھیوں کو مجرم قرار دیا تھا۔ این آئی اے نے آسیہ پر ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے، دہشت گرد تنظیم چلانے اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے سازش رچنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ تحقیقاتی ایجنسی کا کہنا ہے کہ سبھی ملزمین علیحدگی پسند ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور دہشت گرد نیٹورک کی حمایت کرنے میں ملوث تھیں۔
2018 میں این آئی اے نے آسیہ اندرابی کو گرفتار کیا تھا۔ انہیں کشمیر کی پہلی خاتون علیحدگی پسند لیڈر تصور کیا جاتا ہے۔ انھوں نے 1987 میں ’دخترانِ ملت‘ نامی تنظیم قائم کی تھی، جو حریت کانفرنس کے خواتین ونگ کے طور پر کام کرتی تھی۔ حکومت ہند نے اس تنظیم پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ این آئی اے کی جانچ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ آسیہ اور ان کے ساتھی لوگوں کو علیحدگی پسند نظریات کی طرف مائل کرتے تھے اور تنظیم کے ذریعے ایسے کام انجام دیتے تھے جو ملک کے خلاف تھے۔
بہرحال، آسیہ اندرابی اپریل 2018 سے دہشت گردی کی مالی معاونت کے معاملے میں حراست میں ہیں اور فی الحال تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال 10 نومبر کو دہلی کے لال قلعہ کے قریب ہونے والے کار دھماکہ میں شامل ملزمین کا تعلق بھی دخترانِ ملت تنظیم سے ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔ اس معاملہ میں گرفتار شہزادہ اختر پر خواتین کے دہشت گرد گروپ ’دخترانِ ملت‘ کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کرنے کا الزام ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































