
حادثے سے بچ جانے والی مسافر ہریکا نے اپنی لرزہ خیز داستان بیان کرتے ہوئے بتایا، ’’جب میری آنکھ کھلی تو بس پہلے ہی آگ میں گھر چکی تھی۔ کچھ ہی سیکنڈ میں شعلے پوری بس میں پھیل گئے۔ میں گھبراہٹ میں چیخی لیکن ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ کسی طرح بس کے پچھلے حصے میں ایک ٹوٹے ہوئے دروازے سے چھلانگ لگا کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوئیں۔ ہَرِکا نے کہا، ’’کودتے وقت مجھے چوٹ لگی لیکن کم از کم میں زندہ ہوں۔‘‘
ان کے مطابق حادثہ تقریباً صبح 3:30 بجے پیش آیا، جب زیادہ تر مسافر گہری نیند میں تھے۔ آگ لگنے کے بعد اندر اندھیرا اور دھواں بھر جانے سے لوگوں کو نہ باہر کا راستہ نظر آ رہا تھا اور نہ سانس لینا ممکن تھا۔ انہوں نے کہا، ’’سب لوگ چیخ رہے تھے، کچھ لوگ کھڑکیاں توڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘‘






