
جے رام رمیش کے مطابق 16 مارچ کو مرکزی وزیر کرن رجیجو نے راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے کو خط لکھ کر کانگریس سے بات چیت کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اس خط میں ناری شکتی وندن ایکٹ میں ممکنہ ترمیم کا ذکر کیا گیا تھا۔ کھرگے نے اسی دن جواب دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اس طرح کے اہم معاملے پر تمام جماعتوں کو شامل کرتے ہوئے ایک آل پارٹی میٹنگ بلائی جائے اور تحریری تجویز پیش کی جائے تاکہ اجتماعی طور پر اس پر غور کیا جا سکے۔
بعد ازاں 24 مارچ کو اپوزیشن کی دیگر جماعتوں نے بھی کرن رجیجو کو خط لکھ کر کہا کہ چونکہ 29 اپریل کے بعد انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوگا، اس لیے اس کے بعد آل پارٹی میٹنگ بلائی جائے۔ تاہم 26 مارچ کو رجیجو نے دوبارہ کھرگے کو خط لکھ کر کانگریس سے براہ راست بات چیت کی درخواست کی، جسے کھرگے نے ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعی مشاورت ہی جمہوری طریقہ ہے۔






