
جئے رمیش نے بتایا کہ حکومت نے مکانات کی فہرست بنانے کے لیے جو فارم جاری کی ہے، اس میں سوال نمبر 12 فکر انگیز ہے۔ اس میں پوچھا گیا ہے کہ کیا گھر کا سربراہ درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل یا ’دیگر‘ زمرہ سے ہے۔ اس میں او بی سی اور جنرل کیٹگری کے بارے میں صاف طور پر نہیں پوچھا گیا ہے۔ کانگریس لیڈر کے مطابق یہ طریقہ بتاتا ہے کہ حکومت غیر جانبدار طریقے سے ذات پر مبنی مردم شماری کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ حکومت کو تلنگانہ حکومت کے 2025 والے سروے سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ وہاں تعلیم، روزگار اور آمدنی سے متعلق جانکاری ذات کو سامنے رکھتے ہوئے پیش کی گئی تھی۔ سماجی انصاف کے لیے ایسی جانکاری ضروری ہے۔






