
اس موقع پر کانگریس کے سابق رکن اسمبلی انل بھاردواج نے کہا کہ ہاؤس ٹیکس میں 30 جون تک ادائیگی پر ملنے والی 15 فیصد رعایت کو کم کر کے 10 فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے لیے یہ رعایت برقرار رکھی گئی ہے۔ انہوں نے اسے دہلی کے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیا۔ سابق میئر فرہاد سوری نے بجٹ کے اعداد و شمار میں تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ میونسپل کمشنر نے آمدنی 15,664 کروڑ اور اخراجات 16,530 کروڑ دکھائے، جبکہ اسٹینڈنگ کمیٹی نے آمدنی 17,044 کروڑ اور خرچ 16,797 کروڑ بتایا۔ بعد ازاں ایوان میں پیش بجٹ میں آمدنی 17,184 کروڑ اور خرچ 17,583 کروڑ ظاہر کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کارپوریشن کی واجبات کے لیے کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کیا گیا۔






