
یہ ٹیرف بظاہر ماگا کے نعرے سے جڑا ہے، لیکن درحقیقت دنیا معیشت کے اصولوں پر چلتی ہے، اس لیے اس فیصلے کے اثرات زیادہ نمایاں ہیں۔ ٹرمپ ایک کاروباری ہیں اور ہر معاملے میں فائدہ دیکھنے کے عادی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ امریکہ کا فائدہ سوچتے ہیں یا اپنا اور اپنے قریبی حلقے کا؟ مبصرین کی رائے ہے کہ ٹرمپ اکثر ذاتی اور مخصوص ساتھیوں کے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے تعلقات ایلون مسک جیسے سرمایہ کاروں سے ہوں یا پاکستان کے ساتھ مبینہ طور پر بٹکائن کے تجارتی معاملات، ہر قدم میں ایک کاروباری حکمت عملی جھلکتی ہے۔
ٹرمپ اپنی پالیسیوں میں ہندوستان کو کبھی چین اور روس کی طرف دھکیلتے ہیں تو کبھی اپنی جانب کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ ٹیرف کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں اور کبھی خود تو کبھی اپنے وزراء کے ذریعہ ایسے بیانات دیتے ہیں جو ہندوستان کو تذبذب میں ڈال دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس رویے سے واقعی ماگا کا مقصد پورا ہوگا؟ وقت ہی بتائے گا، مگر اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ ٹرمپ کے اس رویے نے امریکہ کی گرفت کو کمزور کیا ہے اور عالمی منظرنامے پر اس کے اثرات دکھائی دینے لگے ہیں۔






