
اسی حقیقت کو سمجھنے کے لیے انسان کی رہنمائی کا سلسلہ شروع سے جاری رہا ہے۔ خدا نے ہر دور میں پیغمبر بھیجے اور ان کے ساتھ صحیفے نازل فرمائے تاکہ انسان کو یہ بتایا جا سکے کہ وہ اپنی زندگی کس طرح گزارے اور اس زمین پر اپنی ذمہ داری—خلافت—کو کیسے نبھائے۔ یہ صحیفے محض نظری تعلیمات نہیں تھے بلکہ عملی زندگی کے مکمل اصول فراہم کرتے تھے۔ پیغمبر ان اصولوں کی جیتی جاگتی مثال بن کر سامنے آئے، تاکہ انسان صرف سن نہ لے بلکہ دیکھ کر سیکھے اور عمل کرے۔
اگر ہم کائنات کے نظم کو دیکھیں تو ہمیں ہر جگہ توازن اور انصاف نظر آتا ہے۔ سورج اپنی حد سے تجاوز نہیں کرتا، سمندر اپنی حدود میں رہتے ہیں، اور زمین اپنی رفتار سے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں ہٹتی۔ اگر ان میں سے کوئی ایک عنصر بھی اپنی مقررہ حد سے تجاوز کرے تو پورا نظام درہم برہم ہو جائے۔ یہی اصول انسانی زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جب انسان خدا کے مقرر کردہ اصولوں کے اندر رہ کر زندگی گزارتا ہے تو معاشرہ امن، سکون اور خوشحالی کا گہوارہ بنتا ہے، اور جب وہ ان حدود کو توڑتا ہے تو فساد، ظلم اور بے چینی جنم لیتی ہے۔






