
بلدیہ حکام کا کہنا ہے کہ اس بار 23 مراکز پر ووٹوں کی گنتی کی جائے گی اور ہر مرکز پر ایک وقت میں صرف دو دو وارڈوں کے نتائج پر توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔ اس نئی حکمت عملی کے تحت انسانی وسائل اور تکنیکی سہولتوں کو محدود وارڈوں پر مرکوز کیا جائے گا تاکہ ہر مرحلے میں شفافیت اور درستگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم اس طریقے کا ایک عملی نتیجہ یہ بھی ہوگا کہ ابتدائی گھنٹوں میں تمام 227 وارڈوں کے رجحانات ایک ساتھ دستیاب نہیں ہوں گے۔
بلدیہ کمشنر بھوشن گگرانی نے میڈیا سے گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس نئے نظام کی وجہ سے حتمی نتائج کے اعلان میں عام حالات کے مقابلے تقریباً ایک گھنٹے کی تاخیر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق گنتی کے پورے عمل میں کمپیوٹرائزڈ نظام استعمال کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے دو ہزار دو سو ننانوے افسران اور ملازمین کو تعینات کیا گیا ہے، تاکہ کسی بھی قسم کی تکنیکی یا انتظامی رکاوٹ سے بچا جا سکے۔





