عالمی شہرت یافتہ سائنسداں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا ایک مشہور قول ہے ’’خواب وہ نہیں ہیں جو ہم سوتے میں دیکھتے ہیں، خواب وہ ہیں جو ہمیں سونے نہیں دیتے۔‘‘ اس قول نے کئی طلبا کے سوچنے کا انداز بدل دیا اور کئی نوجوانوں کی زندگی کا رخ موڑ دیا۔ اس قول میں موجود اصل معنی کو سمجھنا ہے تو آفتاب عالم ندوی کی اُس جدوجہد اور مشقت پر نظر ڈالنی ہوگی، جسے وہ تا زندگی نہیں بھول سکتے۔ اپنا بزنس شروع کرنے کا خواب تو آفتاب عالم نے دیکھ لیا، لیکن اسے شرمندۂ تعبیر کرنے میں انھیں جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا، وہ کسی کی بھی ہمت توڑ سکتا ہے۔ تقریباً 7 سالوں تک ناکامیوں کا ایک دراز سلسلہ تھا، جس نے ایک نوجوان اور صحت مند انسان کو کئی بار ڈپریشن میں مبتلا کیا۔ نیندیں حرام ہو گئیں اور چین و سکون ختم ہو گیا۔ لیکن انھیں اللہ وحدہٗ پر کامل یقین تھا، انھیں بھروسہ تھا کہ محنت کا پھل ضرور ملے گا، اور ایسا ہی ہوا۔ کئی ناکامیوں کے بعد کامیابی کا ایک ایسا راستہ ملا، جس نے آفتاب عالم کی زندگی کو حقیقی معنوں میں سورج کی طرح روشن کر دیا۔ ان کی محنتوں اور جانفشانی کا ہی نتیجہ ہے کہ ’آر بی اے ایس گلوبل ٹریڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ‘ نام سے آج ایک ایسی کمپنی وجود میں آ چکی ہے، جو عمارتوں کی تعمیر میں استعمال ہونے والی بھاری مشینیں دنیا کے تقریباً 30 ممالک میں ایکسپورٹ کرتی ہے۔
آفتاب عالم نے 2002 میں دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ سے عالمیت کی سند حاصل کی۔ پھر عصری تعلیم حاصل کرنے راجدھانی دہلی پہنچے، جہاں تاریخی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے عربی زبان میں بی اے کیا، اور دہلی یونیورسٹی سے عربی زبان میں ہی ماسٹرس کی ڈگری حاصل کی۔ جب ذہن کے دریچے کھلے تو انھوں نے سمبیوسس سے فائنانس میں ’پی جی ڈی بی اے‘ کرنے کے ساتھ ساتھ ’آئی سی ایف اے آئی یونیورسٹی‘ سے فائنانس میں ڈپلوما بھی کر لیا۔ دوران تعلیم ہی آفتاب عالم نے گڑگاؤں واقع ’ای بزنس ویئر پرائیویٹ لمیٹڈ‘ میں بطور ریسرچ اینالسٹ کام کرنا شروع کر دیا۔ یہی وہ وقت تھا جب آفتاب عالم کا ذہن تجارت کی طرف مائل ہوا، لیکن جلدبازی سے کام لینے کی جگہ مزید تجربہ حاصل کرنے کے مقصد سے بنگلورو واقع ’ڈاٹا ریٹنگز انٹلیجنس‘ کمپنی میں ملازمت اختیار کر لی۔ یہ برطانیہ کی ایک کمپنی ہے جہاں انھوں نے اسلامی فائنانس میں سینئر ریسرچ اینالسٹ کے طور پر کام کیا۔ 2008 میں بنگلورو منتقل ہونے کے بعد انھوں نے کئی تجربات و مشاہدے کیے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’’کمپنی میں رہتے ہوئے میں نے پروڈکٹ تیار کرنے، ریسرچ پیٹرن قائم کرنے اور نئے کاروباری آئیڈیاز دینے کے دوران کئی سنگ میل عبور کیے۔ میری کارکردگی نے معاشی بحران کے وقت کمپنی کو فائدہ پہنچایا۔‘‘


2009 کی بات ہوگی جب آفتاب عالم نے اپنا بزنس کھڑا کرنے کے لیے قدم اٹھانے کا ارادہ کیا۔ انھوں نے آئرن اور (Iron Ore)، گیہوں، چاول، کئی طرح کے زرعی اجناس وغیرہ بیرون ممالک برآمد کیے، لیکن صرف خسارہ ہاتھ لگا۔ گولڈ ٹریڈنگ میں بھی قسمت آزمائی کی اور کولکاتا بندرگاہ سے تانبا کی برآمدگی کا منصوبہ بھی ناکام ہو گیا۔ 2014 تک آفتاب عالم نے کئی طرح کی تجارت تنہا بھی کی اور اپنے ساتھیوں کے اشتراک سے بھی، لیکن ناکامی کے سوا کچھ نہ ملا۔ 2014 میں انھوں نے ’آر بی اے ایس‘ کمپنی کی بنیاد ڈالی اور گارمنٹس سعودی عرب برآمد کرنے کا خاکہ تیار کیا۔ سعودی عرب پہنچ کر ایک کمپنی سے معاہدہ طے پا گیا، اور آفتاب عالم نے اطمینان کی سانس لی۔ انھیں یقین ہو گیا کہ مشکل دور ختم ہو چکا ہے، اب کامیابی کی سیڑھی چڑھنے کا وقت ہے۔ لیکن امتحان ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ سعودی عرب کی جس کمپنی سے معاہدہ طے پایا تھا، اس کا پراکیورمنٹ افسر تبدیل ہو گیا اور آفتاب عالم کے سر پر جیسے کوئی پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ انھیں تقریباً 25 لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا اور وہ ڈپریشن میں چلے گئے۔


یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ آفتاب عالم کی معاشی حالت ایسی نہ تھی کہ وہ لاکھوں روپے کا خسارہ برداشت کر لیتے۔ انھیں اب تک ہر تجارت میں ناکامی ملی تھی اور لاکھوں روپے کے وہ مقروض ہو چکے تھے۔ ہمیشہ ایسا لگتا تھا کہ اب وقت بدلنے والا ہے، لیکن پھر ناکامی سامنے آ کر کھڑی ہو جاتی تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’’میں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، لیکن ہر پہلو سے ناکامی مل رہی تھی۔ مالی نقصان اور کاروبار میں ناکامی کی وجہ میں 3-2 مرتبہ ڈپریشن میں چلا گیا۔ میں نے اپنے خاندان اور دوستوں سے کافی رقم قرض لیا تھا، سب ضائع ہو گیا۔ ان دنوں میرے عزیز دوستوں نے مجھے نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔ وہ مجھ سے بات کرنے سے ڈرتے تھے، انھیں خوف تھا کہ کہیں پھر قرض نہ مانگ لوں۔ میں مکمل طور پر دیوالیہ ہو چکا تھا۔‘‘


آفتاب عالم کے مشکل وقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے قرض ادائیگی کے لیے اپنا گھر اور کچھ زمینیں فروخت کرنے کا ارادہ کر لیا۔ اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی وہ ہمت نہیں ہارے۔ بار بار چوٹ کھا کر ایک نئی طاقت کے ساتھ کھڑا ہونا ان کی عادت بن گئی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہر نیا کام شروع ہونے سے پہلے کامیابی کا پورا بھروسہ ہوتا تھا۔ اگر کوئی شیخ مل جاتا تو بڑی بڑی باتیں کرتا اور میں بھی بڑے بڑے خواب دیکھنے لگتا۔ حقیقت تب پتہ چلتی جب نقصان ہو چکا ہوتا۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ تجارت کے مقصد سے کئی ممالک کا دورہ کیا، سب کچھ سمجھنے کے بعد سنبھل کر قدم بڑھایا، پھر بھی کامیابی نہیں مل رہی تھی۔ ’آر بی اے ایس‘ کی ابتدا بھی ناکامی سے ہوئی، جس نے شدید جھٹکا پہنچایا۔ حالانکہ انھوں نے اپنے عزم کو کبھی کمزور نہیں پڑنے دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’مجھے اللہ پر بھروسہ تھا۔ مجھے یقین تھا کہ وہ مجھے ان نازک حالات سے نکالے گا۔‘‘


اور وہ دن طویل انتظار و سخت محنت کے بعد آ ہی گیا۔ 2015 آفتاب عالم اور ’آر بی اے ایس‘ کے لیے ’ٹرننگ پوائنٹ‘ ثابت ہوا۔ آفتاب عالم کے ایک ہم جماعت سعودی عرب واقع کمپنی میں کام کرتے تھے۔ انھوں نے آفتاب عالم کو ایک خاص مشین بنانے کی ذمہ داری سونپی۔ اس مشین کا نام تھا ’پائپ اسپیسر‘۔ مشین کو بنانے میں تقریباً ڈیڑھ سال کا وقت لگا، جسے کمپنی کے مالک نے بے حد پسند کیا۔ تقریباً 2 لاکھ روپے میں تیار یہ مشین کافی منافع کے ساتھ میں فروخت ہوئی۔ اس کامیابی نے پچھلی سبھی ناکامیوں کو پس پشت ڈال دیا۔ اب آفتاب عالم نے سنبھل سنبھل کر قدم بڑھانا شروع کیا اور عمارتوں کی تعمیر میں استعمال ہونے والی بھاری مشینیں بیرون ممالک برآمد کرنے کے مقصد سے مختلف ممالک کا دورہ کیا۔ 2019 میں ایک بڑی کامیابی ملی جب صومالیہ میں ایسا خریدار ملا، جس نے ’آر بی اے ایس‘ کی بنیاد کو مضبوطی عطا کی۔ آج ’آر بی اے ایس‘ بیک ہو لوڈرس، اسکڈ اسٹیئر لوڈرس، ہائیڈرولک ایکزیویٹرس، وہیل لوڈرس، ٹیپر ٹرکس، سوائل کمپیکٹرس، ٹینڈم رولرس، نیومیٹک ٹائر رولرس سمیت درجنوں سامان بیرون ملک برآمد کرتی ہے۔ ان ممالک میں سعودی عرب، دبئی، عمان، کینیا، زمبابوے، ارجنٹائنا، مراکش، الجیریا، فلپائن، انگولا، یوگانڈا وغیرہ شامل ہیں۔


آفتاب عالم اب پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ مشکل وقت میں اُس نے حوصلہ ٹوٹنے نہیں دیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’’ابتدائی کاروبار میں مجھے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے کئی بار سوچا کہ بزنس چھوڑ کر دوبارہ ملازمت کی طرف لوٹ جاؤں۔ لیکن اللہ کا منصوبہ کچھ الگ ہی تھا۔ اس نے مجھے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے منتخب کیا اور مجھے حوصلہ دیا۔‘‘ بدلے ہوئے حالات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’’اب الحمدللہ تجارت میں نئی اونچائیوں کی طرف بڑھ رہا ہوں۔ 30 سے زائد ممالک میں کنسٹرکشن کے سامان برآمد کر رہا ہوں۔ میری کمپنی نے چند بڑی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کاروبار کرنے کا معاہدہ بھی کیا ہوا ہے۔ روز بروز مجھے بڑی ہندوستانی کمپنیوں کی طرف سے فون آتے ہیں، جو اپنے ساتھ مل کر وینچر کاروبار کرنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن اب ہر قدم پھونک پھونک کر بڑھاتا ہوں۔‘‘


اِس اچھے وقت میں آفتاب عالم اُن لوگوں کو ہمیشہ یاد کرتے ہیں جو مشکل دور میں ساتھ کھڑے رہے۔ انھوں نے بتایا کہ جب کوئی مدد کے لیے تیار نہیں تھا، تب بڑے بھائی اور سعودی عرب میں ملازمت کر رہے ہم جماعت نے مالی مدد کر حوصلہ ٹوٹنے سے بچایا۔ ان دونوں نے نہ صرف مالی مدد کی، بلکہ اخلاقی طور پر بھی بھرپور تعاون کیا۔ وہ اپنی اہلیہ کی بھی تعریف کرتے ہیں، جو 2012 میں شاملِ زندگی ہونے کے بعد سے لگاتار حوصلہ دیتی رہیں اور خوفزدہ نہ ہونے کی تلقین بھی کرتی رہیں۔
آفتاب عالم یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں، جو کئی ناکامیوں کے باوجود اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے مشکلات کا سامنا کرتے رہے۔ ان ناکامیوں نے ہی کامیابی کی ایک ایسی داستان لکھ دی جو سنہرے حروف سے لکھے جانے لائق ہے۔ وہ تجارت میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں کے لیے روشن مثال بن چکے ہیں۔ نوجوان طبقہ کے نام اپنے پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ ’’ناکامی سے خوفزدہ نہ ہوں۔ کوشش کرتے رہیں، کرتے رہیں، کرتے رہیں، حتیٰ کہ کامیابی آپ کے قدم چوم لے۔ کبھی جلد اور کبھی تاخیر سے، کامیابی ضرور ملتی ہے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

































