ڈی یو کے ’سمتا اتسو‘ میں تاریخ داں ایس عرفان حبیب پر حملہ، آئیسا کا الزام

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 13, 2026359 Views


دہلی یونیورسٹی کی آرٹس فیکلٹی میں منعقد ’سمتا اتسو‘ کے دوران مؤرخ پروفیسر ایس عرفان حبیب پر پانی اور کوڑے دان پھینکے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ بائیں بازو کی طلبہ تنظیم آئیسا نے الزام لگایا ہے کہ حملہ اے بی وی پی کے لوگوں نے کیا۔ اے بی وی پی نے ان الزامات کو جھوٹا بتایا ہے۔

پروفیسر ایس عرفان حبیب کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعہ کے بعد بھی پروگرام میں جانا جاری رکھیں گے۔ ‘اگر ہم پروگرام میں جانا چھوڑ دیں تو یہ ان کی جیت ہوگی۔ ہماری بات چلتی رہنی چاہیے، خواہ تھوڑے احتیاط کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔’

نئی دہلی: دہلی یونیورسٹی کی آرٹس فیکلٹی میں جمعرات (12 فروری 2025) کو منعقد’سمتا اتسو ‘پروگرام کے دوران مؤرخ پروفیسر ایس عرفان حبیب پر بالٹی سمیت پانی اور کوڑے دان پھینکا گیا۔

’سمتا اتسو‘کو آرگنائز کرنے والی بائیں بازو کی طلبہ تنظیم آئیسا کا الزام ہے کہ مؤرخ پر یہ’حملہ‘ آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) کی طلبہ تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے لوگوں نے کیا ہے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ’پیپلز لٹریچر فیسٹیول‘کے تحت منعقدپروگرام میں پروفیسر حبیب خطاب کر رہے تھے۔ آئیسا نے اسے ’سماجی انصاف اور حاشیے کے لوگوں کی آوازوں پر منظم حملہ’ قرار دیا ہے۔

آئیسا نے اپنےسوشل میڈیا پوسٹ میں ہریش چودھری نامی شخص پر پروگرام میں خلل ڈالنے، پتھراؤ کرنے اور پانی پھینکنے کا الزام لگایا ہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ شخص اے بی وی پی سے وابستہ ہے اور لا فیکلٹی کا اسٹوڈنٹ ہے۔

تاہم، اے بی وی پی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ پورےمعاملے پر یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف جاننے کے لیے ڈی یو پروکٹر کو ای میل کیا گیا ہے، جواب موصول ہونے پر رپورٹ کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

یہ غنڈہ گردی ہے: پروفیسر عرفان حبیب

اس واقعہ پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر ایس عرفان حبیب نے دی وائر کو بتایاکہ انہیں چوٹ نہیں لگی، لیکن ان پر پانی پھینکا گیا۔ انہوں نے بتایا،’مجھے چوٹ نہیں لگی، مگر میں بھیگ گیا۔ بالٹی پھینکی گئی تھی جو دور جا کر گری۔ کوڑے دان بھی پھینکا گیا، وہ بھی ادھر-ادھر گرا۔’

پروفیسر حبیب نے یونیورسٹی کیمپس کو آئیڈیاز کے تبادلے کا کھلا پلیٹ فارم بتاتے ہوئے کہا کہ اختلاف رائے کا جواب بحث سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ تشدد سے۔


یونیورسٹی کیمپس دنیا کی الگ الگ آوازوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ سب لوگ صرف آپ ہی کی زبان بولیں اور ایک ہی نظریہ ہو، تو یہ کسی کے لیے ٹھیک نہیں ہے، نہ لیفٹ کے لیے، نہ رائٹ کے لیے۔ اگر آپ کو جواب دینا ہے تو بولیے، لکھیے، کاؤنٹر کیجیے۔ لیکن یہ کوئی طریقہ نہیں ہے… یہ غنڈہ گردی ہے۔


انہوں نے کہا کہ وہ پروگرام میں مہمان  کی حیثیت سے شریک ہوئے تھے، ‘میں وہاں نہ پڑھتا ہوں، نہ پڑھاتا ہوں۔ پھر میرے ساتھ یا کسی کے ساتھ بھی ایسی حرکت کیسے کی جا سکتی ہے؟ کیمپس اس کے لیے نہیں ہوتا۔’

پروفیسر ایس عرفان حبیب۔

ڈر کر خاموش ہو جانا ان کی جیت ہوگی

اس سوال پر کہ کیا اس واقعہ کے بعد وہ عوامی تقریبات میں جانے سے پہلے سوچیں گے، پروفیسر حبیب نے کہا کہ حالیہ برسوں میں کیمپس کا ماحول بدلا ہے۔


پچھلے کچھ سالوں میں کیمپس کے حالات بے حد خراب ہوئے ہیں۔ ہم جیسے لوگوں کے لیے اوپن اسپیس پہلے جتنے محفوظ نہیں رہ گئے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں ذاتی طور پر نشانے پر تھا، بلکہ یہ ایک سوچ کے خلاف آواز ہے۔ ہم اس سوچ کا حصہ ہیں، اس لیے ٹارگیٹ کیے جاتے ہیں۔


تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ وہ پروگراموں میں جانا جاری رکھیں گے۔ ‘واقعہ کے بعد بھی میں نے اپنی بات پوری کی۔ حملہ آور چاہتے ہیں کہ ہم جیسے لوگ ڈر کر اپنی آواز بند کر لیں۔ اگر ہم پروگرام میں جانا چھوڑ دیں تو یہ ان کی جیت ہوگی۔ ہماری بات چلتی رہنی چاہیے، خواہ تھوڑے احتیاط کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔’

اے بی وی پی کا کیا کہنا ہے؟

اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے اس معاملے میں آئیسا کے الزامات کو پوری طرح سےبے بنیاد اور جھوٹا قرار دیا ہے۔

دی وائر سے بات چیت میں اے بی وی پی-دہلی کے اسٹیٹ سکریٹری سارتھک شرما نے کہا، ‘آئیسا کے الزامات پوری طرح بے بنیاد ہیں۔ آئیسا کی جانب سے جاری کیے گئے ویڈیو میں ہریش صرف بیٹھا ہوا نظر آتا ہے، وہ نہ تو کسی پر پانی ڈالتے ہوئے نظر آرہا ہے اور نہ ہی کسی طرح کی سرگرمی میں شامل ہے۔ پہلے ان لوگوں نے پیچھے سے ویڈیو بنایا اور اس کے بعد خود ہی وہاں سے بھاگنے لگے۔’

اے بی وی پی کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کے درمیان ان کی تنظیم کی بڑھتی مقبولیت سے گھبرا کر بائیں بازو کی طلبہ تنظیم اس طرح کے الزامات لگا رہی ہے۔


اے بی وی پی نے شروع سے ہی کیمپس میں مکالمے اور بحث و مباحثہ کو فروغ دینے کا کام کیا ہے۔ عرفان حبیب جیسے فرضی مؤرخین کے خیالات پر جب مسلسل سوال اٹھ رہے ہیں، ایسے میں میڈیا میں بنے رہنے کے لیے بائیں بازو کی تنظیموں کا یہ ایک منصوبہ بند قدم ہے۔ بائیں بازو کا کردار شروع سے ہی جھوٹ بولنے کا رہا ہے۔


کیا ہے سمتا اتسو؟

آئیسا کے مطابق، سمتا اتسو ایک سماجی انصاف پر مبنی ادبی پروگرام ہے، جسے ’پیپلز لٹریچر فیسٹیول‘کے طور پر منعقد کیا گیا۔ 12 فروری کو دہلی یونیورسٹی کی آرٹس فیکلٹی میں منعقد اس پروگرام کا مقصد یونیورسٹی کیمپس میں ذات پات کے خلاف آواز بلند کرنا اور سماجی انصاف کے مسائل کو اہمیت دینا بتایا گیا۔

آئیسا کی جانب سے شیئر کیے گئے پوسٹر کے مطابق، پروگرام میں سپریم کورٹ سے یو جی سی قوانین پر عائد پابندی ہٹانے اور ’روہت ایکٹ‘نافذ کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ انسٹاگرام پر شیئر کیے گئے پوسٹر کے کیپشن میں ‘یونیورسٹیوں میں ذات پات ختم کرو’ اور ‘سماجی انصاف زندہ باد’ جیسے نعرے بھی شامل تھے۔

تنظیم کے مطابق، یہ تقریب حاشیے پر موجود لوگوں کی آوازوں اور مساوات کے سوالوں کو پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...