قومی راجدھانی میں کھیلوں کو فروغ دینے کے دعوے میدان گڑھی میں بے نقاب ہو تے نظر آرہے ہیں۔ جس زمین کو ملک کا پہلا وقف شدہ رگبی اسٹیڈیم بنایا گیا تھا وہ آج ایک عوامی پارک میں تبدیل ہوچکا ہے ۔ کھلاڑیوں کا الزام ہے کہ 2019 میں دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) نے 3.25 ایکڑ اراضی پر جدید رگبی اسٹیڈیم بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن 6 سال گزرنے کے بعد بھی یہاں نہ گول پوسٹ ہیں، نہ لیول پلیئنگ کا میدان ۔ یہاں تک کہ پینے کے پانی یا ٹوائلٹ جیسی بنیادی سہولیات بھی ندارد ہیں۔
کھلاڑیوں اور کوچز کا کہنا ہے کہ طویل انتظار کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ مجوزہ اسٹیڈیم کے لیے زمین کو پبلک پارک قرار دے دیا گیا ہے۔ رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) کے تحت حاصل کی گئی معلومات میں یہ بھی واضح ہوا کہ اب یہ جگہ عوام کے استعمال کے لیے کھلی ہے۔ پہلے ڈی ڈی اے کی پالیسیوں کے سبب پارک میں بال گیمز پر پابندی تھی جس سے کھلاڑیوں کو مشق کرنے سے بھی روک دیا گیا تھا۔
ہندوستان کے سابق رگبی کپتان اور کوچ گوتم ڈاگر نے کہا کہ پہلے ہمیں کھیلنے سے روکا گیا، پھر زبانی اجازت دی گئی لیکن ہمیں کبھی تحریری حکم نہیں ملا، اب یہ اسٹیڈیم کاغذات پر بھی نہیں بچا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ رگبی ایک اعلی رابطے والا کھیل ہے اور ناہموار، سخت زمین پر مشق کرنا کھلاڑیوں کے لیے خطرناک ہے۔
اس سلسلے میں ’آج تک‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خواتین کھلاڑیوں نے کہا کہ گراؤنڈ میں ٹوائلٹ کی سہولت نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ جھاڑیوں کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔ ایک کھلاڑی نے کہا کہ یہ نہ صرف توہین آمیز ہے بلکہ غیر محفوظ بھی ہے۔ پینے کے پانی کی سہولت بھی ندارد ہے۔ فی الحال جنوبی دہلی کے تقریباً 500 سے 1000 طلباء اور کھلاڑی اس گراؤنڈ میں پریکٹس کر تے ہیں۔ گوتم ڈاگر نے بتایا کی کہ انہوں نے اور ان کی اہلیہ بین الاقوامی رگبی کھلاڑی نیہا پردیسی نے کووڈ کے بعد اس میدان کا افتتاح کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اسے رگبی کھلاڑیوں کے لیے وقف کیا گیا تھا لیکن اب یہ صرف ایک عام پارک بن کر رہ گیاہے۔
دہلی رگبی ایسوسی ایشن کے صدر متھن گوڑ نے کہا کہ انفراسٹرکچر کی کمی کا براہ راست کھلاڑیوں کی کارکردگی پر اثر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 2022 کے نیشنل گیمز میں کانسے کا تمغہ جیتا تھا۔ اگر ہمارے پاس بہتر سہولیات ہوتیں تو ہم سونے کا تمغہ بھی جیت سکتے تھے۔ ’آج تک ‘کے مطابق میدان گڑھی میں ایک طرف لوگ ٹہلتے نظر آرہے ہیں جب کہ دوسری طرف کھلاڑی بغیر گول پوسٹ کے اور ناہموار سطح پر پریکٹس کرتے دیکھتے جاسکتے ہیں۔
کہا جارہا ہے کہ ابھرتے ہوئے کھیلوں کو فروغ دینے کے دعوؤں کے درمیان میدان گڑھی کی یہ کہانی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ کیا انفراسٹرکچر کے بغیر کھلاڑی قومی اور بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کر سکیں گے؟ جواب کا انتظار کرتے ہوئے دہلی کے رگبی کھلاڑی اسی میدان پر پریکٹس کرنے پر مجبور ہیں جو یادوں میں اسٹیڈیم ہے لیکن کاغذات پر صرف پارک ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔































