ڈیجیٹل پیغامات کو فاروارڈ کرنا کیا اتنا ضروری ہے؟… ابھے شکلا

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 10, 2026360 Views


ڈیجیٹل ’ڈائریا‘ کی ماحولیاتی قیمت بھی ہے۔ اس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ آلودگی میں ہوابازی سیکٹر سے زیادہ تعاون انٹرنیٹ کا ہے، کیونکہ انٹرنیٹ کی حصہ داری 3.7 فیصد ہے اور ہوابازی کی 3 فیصد۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، سوشل میڈیا</p></div><div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، سوشل میڈیا</p></div>

i

user

اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو واٹس ایپ میسیجنگ اب میرے ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے۔ میں سماجی طور پر خاصا غیر فعال سا انسان ہوں۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ میری سماجی مہارت اس بھالو جیسی ہے جو 4 ماہ کی نیند کے بعد ابھی ابھی جاگا ہو۔ اس کے باوجود صبح جاگنے پر میں اپنے فون پر روزانہ تقریباً 20 سے 25 نئے میسیج پاتا ہوں۔ دن گزرتے گزرتے مزید قریب 30 میسیج ٹپک جاتے ہیں۔ ان میں سے صرف 5 ہی کچھ کام کے ہوتے ہیں، باقی سب بکواس… عام مذہبی مبارکبادیں، اچھی زندگی گزارنے کے طریقوں پر نصیحتیں، انجان سَنتوں کے اقوال، ہر طرح کی فرضی خبریں اور پھر آر آئی پی لکھ کر تعزیت کا اظہار۔ ان میں سے کچھ مجھے دلچسپ لگتے ہیں، جسے میں آپ سے شیئر کرتا ہوں۔

چلیے، آر آئی پی کی بات کرتے ہیں۔ اگر کسی واٹس ایپ گروپ میں کسی رکن یا اس کے رشتہ دار/دوست کا انتقال ہو جائے، تو آر آئی پی لکھنے کا کیا مطلب ہے؟ کیا اس سے متاثرہ خاندان کو تسلی ملتی ہے؟ کیا یہ زیادہ مناسب نہیں کہ پیغام براہ راست مرحوم کے خاندان کو بھیجا جائے؟ کیا پیغام بھیجنے کا مقصد اپنی تشویش کا عوامی اظہار کرنا ہے یا حقیقی ہمدردی یا غم دکھانا؟ اگر بات دکھاوے کی ہے تو کیا ’ٹریبیون‘ یا ’ٹائمز آف انڈیا‘ میں دو کالم کا اشتہار دینا بہتر نہیں ہوگا؟

پھر آتے ہیں رسمی مبارکبادی پیغامات پر۔ یومِ جمہوریہ کی مبارکباد! نئے سال کی مبارکباد! یومِ خواتین کی مبارکباد! گنیش چترتھی کی مبارکباد! یہ اپنے آپ میں ایک حقیقت ہے کہ آج کل ان مواقع سے جڑی کسی طرح کی کوئی خوشی نہیں ہوتی، لیکن فی الحال اسے رہنے دیتے ہیں۔ اس طرح کا پیغام بھیجنے والا کوئی بھی شخص اسے خود نہیں لکھتا۔ سارے پیغامات ’فاروارڈ‘ کیے ہوئے ہوتے ہیں! یہ بس یونہی بھیجی گئی مبارکبادیں ہیں، وہ بھی سیکنڈ ہینڈ! یہی بات ان کی ایمانداری یا سچائی کے بارے میں بہت کچھ کہہ دیتی ہے۔ ویسے بھی ان کا فائدہ ہی کیا، جب سال کے ہر دن کچھ نہ کچھ ہوتا ہی رہتا ہے، اور اگر اسی طرح خوشی آنی ہے تو آپ کی خوشی کا پیالہ تو پہلے ہی بھرا ہوتا ہے!

یہاں تک کہ ’خبر‘ یا اطلاع والا مواد بھی عموماً ’فاروارڈ‘ کی ہوئی ہوتی ہے۔ بھیجنے والا شاید ہی کبھی ان کی سچائی کی جانچ کرتا ہے، یا اپنی رائے دیتا ہے۔ اور یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اسے کیوں بھیجا گیا۔ یہ نہ صرف فکری سستی کی انتہا ہے، بلکہ یہ مان کر چلنے کی مثال ہے کہ آپ اتنے ناسمجھ ہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے، اس کی آپ کو کوئی خبر نہیں ہے اور اس لیے ہر نصف گھنٹے میں آپ کو یاد دلانے کی ضرورت ہے!

عام طور پر میں ایسے تمام پیغامات بغیر پڑھے ڈیلیٹ کر دیتا ہوں۔ اس کے علاوہ میں نے ذہنی طور پر واٹس ایپ گروپوں پر کچھ بھی لکھنے یا بھیجنے والے ’سیریل مجرموں‘ کی ایک فہرست تیار کر رکھی ہے اور ان کے پیغامات دیکھے بغیر ہی ڈیلیٹ کر دیتا ہوں۔ خیر، آپ پوچھ سکتے ہیں کہ میں اس طرح اتنا غصہ کیوں ہو رہا ہوں؟ کیونکہ، پیارے قارئین، اس ڈیجیٹل ’ڈائریا‘ کی ایک ماحولیاتی قیمت بھی ہے۔ اس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ عالمی آلودگی میں شہری ہوابازی سیکٹر سے زیادہ حصہ انٹرنیٹ کا ہے، کیونکہ انٹرنیٹ کی حصہ داری 3.7 فیصد ہے جبکہ ہوابازی سیکٹر کی 3 فیصد۔ دنیا میں ہر روز 150 ارب پیغامات بھیجے جاتے ہیں (یہ 300 ارب ای میلز کے علاوہ ہے!)، ہر واٹس ایپ پیغام (یا ای میل) سے 0.3 تا 0.7 گرام سی او-2 خارج ہوتی ہے۔ منسلک تصاویر، ویڈیوز یا آڈیو اسے بڑھا کر 17 گرام کر دیتے ہیں (یہ آپ کے ڈیوائس، سرور اور ڈاٹا رکھنے والے مراکز میں خرچ ہونے والی توانائی کی ضروریات کے باعث ہوتا ہے)۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس میں فکر کی کیا بات ہے؟ لیکن ذرا حساب لگائیے، تب آپ کو میرا غصہ سمجھ آئے گا۔

ہندوستان میں تقریباً 80 کروڑ واٹس ایپ صارفین ہیں۔ اگر مان لیں کہ ہر صارف روز صرف 20 پیغامات بھیجتا ہے، تو روزانہ کل 16 ارب پیغامات ہوئے۔ فرض کریں کہ ہر پیغام سے 0.5 گرام سی او 2 کا اخراج ہوا، تو روزانہ ہر صارف 10 گرام سی او 2 کا سبب بنتا ہے۔ تو 80 کروڑ واٹس ایپ صارفین روزانہ 8,000 ٹن یا سالانہ 2,920,000 ٹن آلودگی پیدا کر رہے ہیں۔

جی میل، نیٹ فلکس، یوٹیوب کے استعمال سے ہونے والی آلودگی اس کے علاوہ ہے جو اس سے کہیں زیادہ ہے۔ آلودگی پھیلانے والوں کی فہرست میں نیا نام اے آئی کا ہے، جس کے ڈاٹا سینٹر بہت زیادہ بجلی (اور پانی) استعمال کرتے ہیں۔ اے آئی چیٹ بوٹ، چیٹ جی پی ٹی کا ہر مہینے کا اخراج نیویارک سے لندن کی 260 پروازوں کے برابر ہے! ڈیجیٹل کاربن فٹ پرنٹ، جو اس وقت کل اخراج کا تقریباً 4 فیصد ہے، کے 5 برسوں میں دوگنا ہونے کا اندازہ ہے۔

صارفیت کے دوسرے شعبوں کی طرح، ہمیں انٹرنیٹ کے استعمال میں بھی زیادہ ذمہ دار بننا چاہیے اور ڈیجیٹل، یا ڈاٹا کے استعمال میں بھی کفایت شعاری اختیار کرنی چاہیے۔ بے وجہ میسیجنگ بند کرنی چاہیے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ ہمیں اپنے پرانے اور بے کار محفوظ کیے گئے پیغامات، تصاویر اور ویڈیوز کی باقاعدہ صفائی کرنی چاہیے، بلاوجہ اٹیچمنٹ بھیجنے سے بچنا چاہیے، ناپسندیدہ نیوز لیٹرز سے ان سبسکرائب کرنا چاہیے، پوسٹس بھیجنے سے پہلے انہیں کمپریس کرنا چاہیے، اور یونہی کچھ بھی دیکھتے اور بھیجتے رہنے کی نقصان دہ عادت چھوڑنی چاہیے۔ ضروری نہیں کہ واٹس ایپ پر آنے والے ہر پیغام کو سب کو فاروارڈ کیا جائے، محض یہ دکھانے کے لیے کہ آپ کتنے کنیکٹیڈ یا باخبر ہیں۔ اس کے علاوہ ممکن ہے کہ ان میں سے بیشتر لوگوں کو یہ پیغامات پہلے ہی دوسروں سے مل چکے ہوں جو آپ ہی کی طرح سوچتے ہیں! ہفتے میں ایک دن بغیر کوئی پیغام بھیجے گزارنے کی کوشش کریں۔ ہر چھوٹی کوشش کارآمد ہوتی ہے اور ہمیں باقاعدگی سے ڈیجیٹل تطہیر کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہیں کر سکتے تو اے کیو آئی کے بارے میں شکایت کرنا بند کریں۔ کسی ملک کو وہی لیڈر اور اے کیو آئی ملتا ہے جس کا وہ حقدار ہوتا ہے۔

(ابھے شکلا سبکدوش آئی اے ایس افسر ہیں۔ یہ https://avayshukla.blogspot.com سے لیے گئے ان کے مضمون کا ترجمہ ہے)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...