ڈیجیٹل شناخت کا اختیار کس کے پاس؟…ہرجندر

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 15, 2026358 Views


لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ سِم بائنڈنگ کسی بھی صورت میں حتمی حل نہیں ہے۔ سائبر جرائم پیشہ عناصر بہت تیزی سے اپنے طریقے بدل لیتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں جرائم ختم ہونے کے بجائے نئے انداز اختیار کر لیں، جیسے سِم کلوننگ۔ اس طریقے میں حملہ آور کسی شخص کے سِم کارڈ کی نقل تیار کر کے اس سے جڑے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ اگر میسجنگ سہولت مکمل طور پر سِم پر منحصر ہو جائے تو سِم کلوننگ مجرموں کے لیے اور بھی زیادہ پرکشش ہتھیار بن سکتی ہے۔

اسی طرح دھوکہ باز چوری شدہ یا غیر قانونی طور پر حاصل کیے گئے سِم کارڈ استعمال کر کے بظاہر مکمل طور پر تصدیق شدہ ڈیجیٹل شناختیں بھی بنا سکتے ہیں۔ ہندوستان میں کروڑوں لوگ روزمرہ کی گفتگو، کاروبار، صحافت اور سماجی سرگرمیوں کے لیے میسجنگ ایپس پر انحصار کرتے ہیں۔ اس لیے اس اصول کے اثرات بہت جلد عام زندگی میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

آخرکار اصل بحث صرف سِم کارڈ کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اس بنیادی سوال کے گرد گھومتی ہے کہ جدید ڈیجیٹل دور میں کسی فرد کی آن لائن شناخت پر حقیقی اختیار کس کے پاس ہونا چاہیے — صارف کے پاس، ٹیک کمپنیوں کے پاس یا پھر ریاست کے پاس۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...