ہندوستان میں ایل پی جی بحران نے مشکل حالات پیدا کر دیے ہیں۔ گاؤں اور شہر ہر جگہ رسوئی گیس کے لیے لوگ پریشان نظر آ رہے ہیں۔ گیس ایجنسی پر لمبی قطاریں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ کئی گھروں میں تو انڈکشن یا لکڑی پر کھانا بننا شروع ہو گیا ہے۔ عوام کی پریشانی بیان کرتی کئی تصویریں اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ اپوزیشن پارٹی کانگریس بھی لگاتار سوشل میڈیا پر ویڈیو جاری کر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ ایک تازہ سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے پی ایم مودی کے ایک پرانے بیان کو دکھایا ہے، جس میں وہ لکڑی پر کھانا بنانے والی خواتین کی پریشانی پر فکر ظاہر کرتے ہیں۔ ان کا بیان ختم ہونے کے بعد ایک بوڑھی عورت کی ویڈیو دکھائی جاتی ہے جو موجودہ حالات میں اپنی پریشانیوں کو بیان کرتی ہے۔
اس پوسٹ کو کانگریس نے کیپشن دیا ہے ’نریندر مودی جھوٹ بولنے میں ماہر ہیں‘۔ نریندر مودی کی ویڈیو پر عنوان دیا گیا ہے ’ڈھونگ کرتے نریندر مودی‘، اور بوڑھی عورت کی ویڈیو پر عنوان دیا گیا ہے ’سچائی بتاتی بوڑھی ماں‘۔ ویڈیو میں نریندر مودی کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ’’اُس ماں کو جو لکڑی جلا جلا کر دھوئیں میں کھانا پکا رہی ہے، کیا اکیسویں صدی میں میرے ملک میں ایسی فیملی کو اس طرح جینے کے لیے مجبور کرنا چاہیے کیا؟ ان کو ان کے نصیب پر چھوڑنا چاہیے کیا؟‘‘ پھر بوڑھی عورت موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہے ’’گیس کے بغیر بہت زیادہ پریشانی ہو رہی ہے۔ کام کر کے آتی ہوں، جنگل بھاگتی ہوں۔ جنگل سے لکڑی لاتی ہوں، پھر کھانا بناتی ہوں اور بچوں کو کھلاتی ہوں۔‘‘ وہ یہ بھی کہتی ہے کہ ’’300 روپیہ مانگتے ہیں ایک کلو (گیس) کا۔ اب 300 روپے کا گیس بھرا لوں تو بچے کے منھ کے لیے کھانا کہاں سے لاؤں۔‘‘
کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر مزید ایک ویڈیو ڈالی ہے، جو اتر پردیش کے گورکھپور کی ہے۔ اس میں رسوئی گیس سلنڈر کے لیے کئی لوگ قطار بند دکھائی دے رہے ہیں، اور سبھی پریشان ہیں۔ اس ویڈیو کے ساتھ کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’یہ اتر پردیش کا گورکھپور ہے۔ یہاں لوگ ایل پی جی کے لیے رات بھر سے لائن میں لگے ہیں۔ کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد بھی انھیں مایوسی مل رہی ہے۔‘‘ کانگریس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’گھروں میں چولہا نہیں جل رہا، بچے بھوکے ہیں، کام دھندا ٹھپ ہے، لیکن مودی حکومت صرف جھوٹ بول کر اپنی شبیہ بچانے میں مصروف ہے۔ بے حد شرمناک۔‘‘



































