
لوک سبھا میں جاری ہنگامہ آرائی کے دوران قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ایک بار پھر اپنا خطاب شروع کیا، جس پر حکمراں جماعت کے اراکین نے دوبارہ سخت اعتراض کیا۔ راہل گاندھی کے بولتے ہی ایوان کا ماحول ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہو گیا اور حزبِ اقتدار کی جانب سے شور شرابہ شروع ہو گیا۔
اس دوران وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور راہل گاندھی کے خطاب پر باضابطہ اعتراض ظاہر کیا۔ دونوں وزرا نے کہا کہ قواعد کے تحت اس طرح کی باتوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور ایوان کی کارروائی کو قواعد کے مطابق چلایا جانا چاہیے۔
اعتراضات اور شور کے باعث لوک سبھا کی کارروائی ایک بار پھر متاثر ہوئی، جبکہ اسپیکر کی جانب سے اراکین کو نظم و ضبط برقرار رکھنے اور قواعد کی پابندی کی ہدایت دی گئی۔ اسپیکر نے جب یہ کہا کہ قائد حزب اختلاف کو صرف اسی موضوع پر بولنا چاہئے جو صدر کے خطاب کا حصہ تھا۔ اس پر راہل گاندھی نے کہا کہ وہ قومی سلامتی پر بیان دینا چاہتے ہیں، جوکہ صدر کے خطاب کا حصہ تھی۔ شدید ہنگامہ آرائی کے درمیان کارروائی کو ایک مرتبہ پھر شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔






