
بوسان میں ہونے والی یہ ملاقات ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پی ای سی) اجلاس کے موقع پر ہوئی، جہاں دونوں رہنماؤں نے باہمی تجارت، عالمی منڈی کے استحکام، اور سکیورٹی امور پر گفتگو کی۔ ٹرمپ نے ملاقات کے آغاز میں کہا کہ ’’ہم پہلے بھی کئی معاملات پر اتفاق کر چکے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آج بھی کئی امور پر ہماری بات بنے گی۔‘‘ انہوں نے صدر شی جن پنگ کو عظیم ملک کے عظیم رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات طویل عرصے تک مثبت سمت میں آگے بڑھتے رہیں گے۔‘‘
چینی صدر شی جن پنگ نے بھی اپنے ابتدائی بیان میں کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے دوبارہ امریکی صدر بننے کے بعد ان سے تین بار بات ہو چکی ہے اور اب بالمشافہ ملاقات عالمی تعاون کے لیے نیا باب کھولے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’چین اور امریکہ کو ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے جذبے سے کام لینا چاہیے۔ ہم ہر معاملے پر متفق نہیں ہو سکتے لیکن ہمیں شراکت داری اور دوستی کو بنیاد بنانا چاہیے۔‘‘





