
بی جے پی یہاں گزشتہ 35 برسوں سے اقتدار میں ہے۔ 2022 میں جب یہ اقتدار میں لوٹی، تو پچھلے 6 ادوار میں کوئی کام نہ کرنے کے باوجود لوگوں نے ایک امید باندھی۔ انہیں لگتا تھا کہ کم از کم اس بار تو بی جے پی کچھ کام کرے گی، لیکن مزید 3 سال گزر جانے کے بعد بھی بی جے پی حکومت کی کارکردگی صفر رہی ہے۔
2014 میں نریندر مودی اور امت شاہ کے دہلی چلے جانے کے بعد بی جے پی کی مقامی قیادت تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ بیوروکریٹس بدعنوان رہنماؤں کے ساتھ مل کر حکومت چلا رہے ہیں۔ بدعنوانی یہاں بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ اس کا پیٹرن کچھ اس طرح ہے کہ بی جے پی حکومت ٹنڈر نکالتی ہے، بیوروکریٹس اسے او کے کرتے ہیں، پھر بی جے پی کے ہی کسی لیڈر کی کمپنی کو ٹنڈر مل جاتا ہے۔ اس میں بیوروکریٹس کو بھی حصہ ملتا ہے۔ اقتدار میں بیٹھے لوگ خوش رہتے ہیں اور یہ ’چکر‘ چلتا رہتا ہے۔
پہلے سی ایل پی کے طور پر میں ’جن منچ پروگرام‘ کے تحت ہر بلاک میں جا کر عوامی سماعت کرتا تھا۔ ابھی گزشتہ سال جولائی میں ریاستی صدر بنا، تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ اسی پروگرام کو آگے بڑھایا جائے۔ اسی سوچ کے تحت میں نے پوری ریاست میں ’جَن آکروش یاترا‘ نکالنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا مقصد لوگوں کے درمیان جا کر ان کے مسائل سننا، پھر انہیں اجاگر کرنا اور ان کا حل نکالنا ہے۔ یاترا 4 نومبر 2025 کو شروع ہوئی۔ ہم نے 13 دنوں میں 1,300 کلومیٹر کی یاترا میں پورے شمالی گجرات کا احاطہ کیا۔ پھر وسطی گجرات میں کھیڑا ضلع سے یاترا شروع کر کے داہود میں اختتام کیا۔ 16 دنوں کی یاترا میں 1,400 کلومیٹر کا احاطہ کیا۔ تیسرے مرحلے میں ہم نے 2 فروری کو جنوبی گجرات میں ولساڈ ضلع سے یاترا کا آغاز کیا۔ اس کا اختتام 12 تاریخ کو ہوا۔






