
اس وضاحت کے بعد سپل نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ نہ تو بوتھ لیول افسر کو قصوروار ٹھہرا رہے ہیں اور نہ ہی پرانے پتے سے نام خارج کیے جانے پر اعتراض ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ افسران کا نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کے اس ضابطے کا ہے جس میں ایک حلقے سے دوسرے حلقے میں منتقل ہونے والے ووٹر کے پچھلے انتخابی ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔
سپل کا کہنا ہے کہ اگر ووٹر کو فارم چھ بھر کر نئے ووٹر کے طور پر شامل کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کا پچھلے کئی دہائیوں پر محیط انتخابی ریکارڈ ختم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اپنے معاملے میں یہ ریکارڈ پینتیس برس کا ہے، جو محض ایک انتظامی عمل کے سبب مٹ جائے گا۔ ان کے مطابق یہ صرف ان کا مسئلہ نہیں بلکہ ایسے کروڑوں حقیقی ووٹرز اس صورت حال سے متاثر ہو سکتے ہیں جنہوں نے وقت کے ساتھ اپنا رہائشی پتہ بدلا ہے۔





