
اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کی جانب سے سخت موقف اور ممکنہ بندش کی دھمکی نے عالمی توانائی سپلائی کو غیر یقینی بنا دیا ہے، جس سے بازار میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ یہی بے چینی کرنسی بازاروں میں بھی جھلک رہی ہے، جہاں سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔
روپے کی اس کمزوری کا اثر عام آدمی پر بھی واضح طور پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ چونکہ ہندوستان بڑی مقدار میں خام تیل، خوردنی تیل، الیکٹرانک اشیاء اور دیگر مصنوعات درآمد کرتا ہے، اس لیے روپے کی گراوٹ ان تمام اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ متوقع ہے۔ اگر مہنگائی بڑھتی ہے تو ریزرو بینک آف انڈیا شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے، جس سے قرض اور ای ایم آئی مزید مہنگی ہو سکتی ہے۔






