
سنجے راؤت نے اپنے بیان میں یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا اور اُدھو ٹھاکرے کی شیوسینا کے درمیان اصل پارٹی کے حق سے متعلق قانونی تنازعہ چیف جسٹس کی بنچ کے سامنے زیر التوا ہے۔ یہ معاملہ گزشتہ 3 برسوں سے فیصلے کا منتظر ہے۔ راؤت کے مطابق اس مقدمے میں ایکناتھ شندے خود ایک فریق ہیں، اس لیے ایسے حالات میں ان کا کسی جج کے استقبال کے لیے موجود ہونا مناسب نہیں کہا جا سکتا۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی عمل کی غیر جانب داری ایک نہایت حساس اور بنیادی اصول ہے۔ اگر کسی زیر التوا مقدمے کا ایک فریق اس جج کا استقبال کرے جس کے سامنے اسی سے متعلق فیصلہ ہونا ہو تو عوام کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا ہونا فطری بات ہے۔ راؤت نے صاف لفظوں میں کہا کہ کسی بھی صورت میں یہ قبول نہیں کیا جا سکتا کہ ایک فریق عدالتی منصب پر فائز شخصیت کے استقبال کا کردار ادا کرے۔






