دہلی کے چاندنی چوک کی تنگ گلیوں میں لٹکتے ہوئے بجلی کے تاروں کو جلد ہی زیرِ زمین (انڈر گراؤنڈ) منتقل کر دیا جائے گا۔ اس منصوبے کا آغاز پہلے مرحلے میں 28 گلیوں سے کیا جا رہا ہے۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور وزیر توانائی آشیش سود نے جمعرات کو پرانی دہلی کے ٹاؤن ہال سے اس منصوبے کا افتتاح کیا۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے بتایا کہ یہ منصوبہ 160 کروڑ روپے کا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دہلی کی اگلے 50 سالوں کی بجلی کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ وزیر اعلیٰ نے چاندنی چوک کے لیے 1000 کروڑ روپے کے فنڈ کا بھی اعلان کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ آج دہلی نے اپنے ماضی کو سلام پیش کرتے ہوئے مستقبل کی جانب ایک مضبوط قدم بڑھایا ہے۔ چاندنی چوک صدیوں سے تجارت اور ثقافت کا ایک جیتا جاگتا مرکز رہا ہے۔ یہاں کی حویلیاں تاریخ کی گواہی دیتی ہیں اور گلیاں ہماری وراثت کو سمیٹے ہوئے ہیں۔ لیکن طویل عرصے سے اوپر لٹکتے بجلی کے تار اس خوبصورتی پر پردہ ڈالتے تھے اور حفاظت کے لیے بھی ایک چیلنج تھا۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے مطابق آج چاندنی چوک میں اوور ہیڈ بجلی کے تاروں کو انڈر گراؤنڈ کرنے کے منصوبے کا آغاز ہوا۔ یہ محض ایک تکنیکی تبدیلی نہیں ہے، بلکہ ہماری وراثت کو محفوظ، منظم اور خوبصورت بنانے کا عزم ہے۔ اسی کے ساتھ منڈولی میں بی وائی پی ایل کے 66/11 کے وی جی آئی ایس گرڈ سب اسٹیشن اور شوالک، دوارکا نیز گوئلا خورد میں بی آر پی ایل کے 4 یوٹیلیٹی سطح کے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کے منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔ ان اقدامات سے لاکھوں خاندانوں کو بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی ہوگی۔
وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ چاندنی چوک کو تاریخ کے اوراق میں پڑھا جاتا رہا ہے۔ دہلی حکومت آج دہلی میں اگلے 50 سالوں کی بجلی کی ضرورت پر کام کر رہی ہے۔ ہم ای وی پالیسی لا رہے ہیں، جب گاڑیاں الیکٹرک ہو جائیں گی تو بجلی کا استعمال بڑھے گا۔ تمام علاقوں تک صحیح طریقے سے بجلی پہنچے، اس کے لیے ہمارا محکمہ بجلی کام کر رہا ہے۔ اس ٹاؤن ہال سے میرا پرانا تعلق ہے۔ جب میں وزیراعلیٰ بنی تو میرا ایک پرانا بیان کہ چاندنی چوک کی مارکیٹ کو باہر منتقل کرنا ہے، اس پر لوگ میرے پاس آئے اور کہا کہ ہمیں اسی جگہ رہنا ہے، بس اسی کو درست کر دیجیے۔ یہاں 1000 کروڑ روپے کا کام کروانا ہے، اس علاقے میں کرنے کے لیے بہت کام ہے۔
ریکھا گپتا نے کہا کہ ’’آج ہی جس منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے، اس کے پہلے مرحلے میں 160 کروڑ روپے کی لاگت سے 28 سڑکوں سے کھلے تار ہٹائے جائیں گے۔ سڑکوں کی مرمت کی جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’یہ جگہ تاریخی ہے، یہاں لوگ تجارت کے لیے آتے ہیں۔ ہمارا تو دل ہی پرانی دہلی میں بستا ہے۔ یہاں کی تنگ گلیوں سے پرانا تعلق ہے۔ اس ٹاؤن ہال کو دہلی حکومت دوبارہ بحال کرے گی۔‘‘
دوسری جانب چاندنی چوک کے رہنے والے لوگوں اور تاجروں نے کہا کہ تنگ گلیاں اور کھمبوں سے لٹکتے تار ہمیشہ خطرہ بنے رہتے ہیں۔ آئے دن، خاص طور پر گرمی کے موسم میں تاروں میں آگ لگ جاتی ہے، جس سے حادثات پیش آتے ہیں۔ انہی تاروں کے سہارے بندر گھروں اور دکانوں میں داخل ہو جاتے ہیں اور نقصان پہنچاتے ہیں۔ ساتھ ہی لوگوں کا ماننا ہے کہ تاروں کو زیرِ زمین (انڈر گراؤنڈ) کرنے سے نہ صرف حادثات کا خطرہ ٹل جائے گا بلکہ چاندنی چوک بھی خوبصورت نظر آئے گا۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب چاندنی چوک میں دوبارہ تعمیر و ترقی کا کام ہو رہا تھا، اسی وقت ان تاروں کو بھی زیرِ زمین کیا جانا چاہیے تھا۔ اب اگر ایک بار پھر سڑکوں کی کھدائی کی جائے گی تو ان کے کاروبار پر اثر پڑے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔





































