امریکی خلائی ادارے ناسا کا تاریخی آرٹیمس II مشن کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔ اس مشن کے تحت اورین اسپیس کرافٹ نے 11 اپریل یعنی آج صبح 5 بج کر 37 منٹ پر امریکہ کے شہر سین ڈیاگو کے ساحل کے قریب بحیرۂ الکاہل میں بحفاظت لینڈنگ کی۔ چاروں خلا باز چاند کے گرد چکر لگا کر خیریت سے زمین پر واپس آ گئے۔یہ مشن گزشتہ 54 برسوں میں انسانوں کو چاند کے قریب لے جانے والا پہلا عملہ بردار مشن بن گیا ہے۔
خلائی جہاز کے سمندر میں اترنے کے بعد ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر اس کی جانب روانہ ہو گئیں۔ اورین اسپیس کرافٹ اس وقت ایئر بیگز کی مدد سے پانی پر تیر رہا ہے اور تمام خلا باز مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ مشن کی واپسی کے حساس مرحلے میں، زمین کے ماحول میں داخل ہوتے وقت تقریباً 6 منٹ کا کمیونیکیشن بلیک آؤٹ بھی پیش آیا، جس کے دوران خلا بازوں کا رابطہ مشن کنٹرول سے منقطع رہا،یہ ایک معمول کا مگر نہایت اہم مرحلہ ہوتا ہے۔
زمین کی فضا میں داخلے کے لیے اورین کیپسول کو انتہائی درست زاویے پر سیٹ کیا گیا تھا تاکہ محفوظ لینڈنگ ممکن ہو سکے۔ اس دوران اسپیس کرافٹ کو جی پی ایس کے ذریعے مسلسل ٹریک کیا جاتا رہا، جس سے اس کی درست پوزیشن معلوم ہوتی رہی۔ ری-اینٹری سے قبل اورین کا کریو ماڈیول اس کے سروس ماڈیول سے الگ ہو گیا، جس کے نتیجے میں اس کا ہیٹ شیلڈ سامنے آ گیا،یہی حصہ شدید گرمی سے حفاظت فراہم کرتا ہے۔
واپسی کے دوران کریو ماڈیول کو تقریباً 1648 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد اس نے اپنی سمت کو درست رکھنے کے لیے ایک مختصر بَرْن کیا تاکہ داخلے کا زاویہ درست رہے اور ہیٹ شیلڈ مؤثر طریقے سے کام کرتا رہے۔ یہ مشن مستقبل میں چاند پر انسانی موجودگی کی راہ ہموار کرنے کی جانب ایک اہم سنگِ میل تصور کیا جا رہا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔































