لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی آج ایک بار پھر ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے نظر آئے۔ انھوں نے وزیر اعظم مودی کے اسرائیل دور پر پہنچتے ہی اپنا وہ چیلنج یاد دلایا جس میں امریکہ کے ساتھ کیے گئے تجارتی معاہدہ کو رَد کرنے کہا گیا تھا۔ انھوں نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’نریندر ’سرینڈر‘ مودی، آپ کو یو ایس ٹریڈ ڈیل رَد کرنے کا چیلنج دیے ہوئے 24 گھنٹے سے زیادہ ہو گیا۔ آپ پھر خاموشی سے اسرائیل نکل گئے۔‘‘
راہل گاندھی نے اس سوشل میڈیا پوسٹ میں پی ایم مودی سے یہ سوال بھی کیا کہ اس بار وہ اسرائیل کس کے کہنے پر گئے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’ایک بار تو آپ ایپسٹین کے کہنے پر اسرائیل میں رقص کر ہی چکے ہیں، گانا گا ہی چکے ہیں، اس مرتبہ وہاں کس کے کہنے پر ملک کے مفادات کے خلاف سودا کر کے آئیں گے؟‘‘ اس پوسٹ میں راہل گاندھی نے بھوپال کے ’کسان مہاچوپال‘ کی وہ ویڈیو بھی شیئر کی ہے، جس میں وہ پی ایم مودی کو ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ منسوخ کرنے کا چیلنج دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 24 فروری کو ’کسان مہاچوپال‘ میں جمع بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا تھا کہ ’’لوک سبھا میں اپنی تقریر کے دوران میں صرف نرونے جی کی بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میں دو تین چیزیں اور کہنا چاہتا تھا۔ میری تقریر ختم ہوتے ہی شام کو وزیر اعظم مودی نے کابینہ سے پوچھے بغیر ٹرمپ کو فون کیا۔ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا اور کہا کہ مودی نے مجھے فون کیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ معاہدہ پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ معاہدہ 4 ماہ سے رکا ہوا تھا۔ لوک سبھا سے مودی بھاگ گئے، اگلے روز جھوٹا بہانہ بنایا کہ کانگریس پارٹی کی خواتین ان پر حملہ کرنا چاہتی تھیں۔ پھر ٹرمپ کو فون لگایا۔ شیوراج چوہان سے پوچھیے… کیا وزیر اعظم نے ان کی رائے لی؟ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ اچانک سے ہندوستان کے کسانوں کو بیچ دیا، ہمارا مکمل ڈاٹا امریکہ کو دے دیا۔‘‘ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ’’مزے کی بات یہ ہے کہ میں لوک سبھا میں نرونے جی کی بات کر رہا تھا، اور بیک گراؤنڈ میں ایک الگ چیز چل رہی تھی۔ 4 ماہ کے لیے ہندوستان اور امریکہ معاہدہ رکا ہوا تھا۔ حکومت نہیں چاہتی تھی کہ امریکہ کی بڑی بڑی کمپنیاں سویا، کپاس اور مکئی ہندوستان میں فروخت کر سکیں۔ 4 ماہ تک بات چیت بند تھی۔ پھر اچانک وزیر اعظم نے ٹرمپ کو فون ملایا اور سرینڈر کر دیا۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































