
متعلقہ ویڈیو کا اسکرین گریب۔
نئی دہلی: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے دی وائر کے اس طنزیہ اینیمیٹڈ کارٹون کو، جو وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل دورے اور کنیسٹ میں ان کی تقریر کے دوران انہیں ملے ’میڈل‘ سے متعلق ہے، کوہندوستان میں بلاک کر دیا گیا ہے۔
بتادیں کہ ایکس پر دی وائر کے 13 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں، جو اب اس مزاحیہ ویڈیو کارٹون کو اس پلیٹ فارم پر دیکھنے سے قاصر ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ 37 سیکنڈ کے اس کارٹون میں پی ایم مودی، کنیسٹ کے اسپیکر اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو دکھایا گیا ہے۔ اسے فلم ’یادوں کی بارات‘ کے گانے ’چرا لیا ہے‘ کی دھن پر تیار کیا گیا ہے، جس کے بول ہیں: ’میڈل ملا ہے وشو گرو کو۔‘
یہ کارٹون سنیچر (27 فروری) کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیا گیا تھا، لیکن اب دی وائر کے ناظرین اس پوسٹ پر کارٹون کی جگہ ایک سنسر پیغام دیکھ رہے ہیں، جس میں ’قانونی مطالبے‘ کا حوالہ دیتے ہوئے پوسٹ کو بلاک کرنے کی بات کہی گئی ہے۔
یہ ایک المیہ ہی ہے کہ دی وائر کے اس اینیمیشن کارٹون پر سینکڑوں ناظرین کے تبصرے – چاہے وہ تعریفی ہوں، غیر جانب دار یا تنقیدی ہوں- اب بھی ایکس کے پلیٹ فارم پر سب کے لیے دستیاب ہیں۔ ان میں کچھ صارفین کی جانب سے شیئر کیے گئے طنزیہ اینیمیشن بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ بنیادی طور پر ہندی میں پوسٹ کیا گیا یہ مواد دی وائر ہندی کے ایکس اکاؤنٹ پر اب بھی دستیاب ہے۔
मेडल मिला है | सब चंगा सी प्रोडक्शन | @thewire_in pic.twitter.com/7xI99ebRhX
— The Wire हिंदी (@thewirehindi) February 27, 2026
بتادیں کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب دی وائر کو اس طرح کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سے قبل 9 فروری کو بھی اسی نوع کا ایک واقعہ پیش آیا تھا، جب 13 لاکھ سے زائد فالوورز والے دی وائر کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر مودی حکومت سے متعلق ایک طنزیہ اینیمیٹڈ کارٹون پوسٹ کیے جانے کے بعد ہندوستان میں اس اکاؤنٹ کو دو گھنٹے سے زیادہ وقت کے لیے بلاک کر دیا گیا تھا۔
انسٹاگرام سے رابطہ کرنے کے بعد دی وائر کا اکاؤنٹ بحال کر دیا گیا، لیکن کارٹون دوبارہ دستیاب نہیں ہو سکا۔ بعد میں اس پوسٹ کو ایکس پر بھی بلاک کر دیا گیا۔
اس وقت ڈی جی پب نیوز انڈیا فاؤنڈیشن اور پریس کلب آف انڈیا نے آزاد صحافت پر سنسرشپ کے خلاف اعتراض درج کرواتے ہوئے اسے ایک تشویشناک رجحان قرار دیا تھا۔
جیسا کہ ڈی جی پب نے کہا تھا، ’یہ پابندی اتفاقی نہیں بلکہ ایک بڑھتا ہوا رجحان ہے، جس میں طنز، تنقیدی صحافت اور اختلاف کی آوازوں کو مبہم اور جوابدہی سے بالاتر ’قانونی مطالبات‘ کے ذریعے دبایا جاتا ہے، جو مناسب قانونی عمل اور جمہوری اقدار کو کمزور کرتے ہیں۔‘
اس میں مزید کہا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 19(1)(اے) کے تحت دی گئی اظہار رائے کی آزادی ہندوستان کی جمہوریت کی بنیاد ہے۔ طنز اور تنقیدی جائزہ جمہوری نظام میں رکاوٹ نہیں بلکہ اس کے تحرک کے لیے ضروری ہیں۔
اس بار ایکس کی جانب سے جاری ایک ٹیمپلیٹیڈ نوٹس میں پوسٹ کو روکنے کی وجہ کے طور پر ’قانونی مطالبے‘ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ تاہم، ایکس کی جانب سےاس قانونی مطالبے کی مختصر وضاحت میں کسی خاص وجہ جیسے ’عدالتی حکم‘ وغیرہ کا ذکر نہیں کیا گیا، جو ادارتی لحاظ سے مفید ہو ۔

واضح ہو کہ تین ہفتے سے بھی کم عرصہ قبل میٹا کی ملکیت والے انسٹاگرام کی جانب سے ’دی وائر‘ کو بلاک کرنے اور ناظرین کو گزشتہ کارٹون تک رسائی سے محروم کرنے کے بعد پریس کلب آف انڈیا نے کہا تھا، ’یہ وہ کارروائیاں نہیں ہیں جن کی ایک متحرک اور مضبوط جمہوریت میں توقع کی جاتی ہے۔‘
تنظیم نے یہ بھی کہا تھا کہ اس طرح کی کارروائی، جن میں کسی میڈیا ادارے کے مواد کو سنسر کرنے اور اسے منظر عام سے ہٹانے کے لیے کوئی وجہ یا جواز فراہم نہیں کیا جاتا ہے، حیران کن حد تک عام ہوتی جا رہی ہیں۔
پی سی آئی نے اینیمیشن کو ہٹانے اور دی وائر کے انسٹاگرام پیج کو بلاک کرنے پر وضاحت بھی طلب کی تھی۔






