’پی ایم مودی سمجھوتہ کر چکے ہیں، ان کا دھوکہ اب سامنے آ چکا ہے‘، ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ پر کانگریس کا تلخ تبصرہ

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 21, 2026358 Views


راہل گاندھی نے پی ایم مودی کو ہدف بناتے ہوئے کہا کہ ’’وزیر اعظم سمجھوتہ کر چکے ہیں۔ ان کا دھوکہ اب سامنے آ گیا ہے۔ وہ (تجارتی معاہدہ پر) دوبارہ بات چیت نہیں کر سکتے۔ وہ پھر سے خود سپردگی کر دیں گے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے (فائل)، تصویر <a href="https://x.com/kharge">@kharge</a></p></div><div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے (فائل)، تصویر <a href="https://x.com/kharge">@kharge</a></p></div>

i

user

کانگریس نے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے ہفتہ کے روز دعویٰ کیا کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی تجارتی معاہدہ پر امریکہ سے دوبارہ بات چیت نہیں کر سکتے، وہ پھر سے خود سپردگی کر دیں گے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور سابق صدر راہل گاندھی، دونوں نے ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ جاری کر وزیر اعظم مودی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔

دراصل امریکی سپریم کورٹ نے جمعہ کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے گلوبل ٹیرف کو خارج کر دیا، جس سے ٹرمپ کے معاشی ایجنڈے کو شدید جھٹکا لگا ہے۔ ججوں نے اکثریت سے سنائے گئے فیصلہ میں کہا کہ آئین بہت واضح طور سے امریکی کانگریس (پارلیمنٹ) کو ٹیکس لگانے کی طاقت دیتا ہے، جس میں ٹیرف بھی شامل ہے۔ عدالت نے صدر ٹرمپ کے ذریعہ بغیر مشورہ کئی ممالک پر عائد کیے گئے ٹیرف کو غلط بتایا۔ حالانکہ عدالت عظمیٰ کے فیصلہ پر ڈونالڈ ٹرمپ نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

اس تعلق سے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور سابق کانگریس صدر راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کیا ہے، جس میں لکھا ہے کہ ’’وزیر اعظم سمجھوتہ کر چکے ہیں۔ ان کا دھوکہ اب سامنے آ گیا ہے۔ وہ (تجارتی معاہدہ پر) دوبارہ بات چیت نہیں کر سکتے۔ وہ پھر سے خود سپردگی کر دیں گے۔‘‘ راہل گاندھی ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ پر قبل میں بھی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں اور اسے خاص طور سے ہندوستانی کسانوں کے لیے انتہائی مضر قرار دیا ہے۔

کانگریس کے موجودہ صدر اور راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے بھی اس معاملہ میں اپنی شدید فکر کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں سوال اٹھایا کہ ’’بغیر سر اور پیر والی خارجہ پالیسی یا یکطرفہ خودسپردگی؟ جس ’ٹریپ ڈیل‘ نے ہندوستان سے بھاری رعایتیں لیں، مودی حکومت نے اس میں پھنسنے سے پہلے ٹیرف پر امریکی سپریم کورٹ کے فیصلہ کا انتظار کیوں نہیں کیا؟‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’مشترکہ بیان میں ہندوستان کو ہونے والے کئی امریکی برآمدات پر صفر ٹیکس کی بات کہی گئی ہے، جس سے ہندوستانی زرعی شعبہ کا دروازہ امریکی سامانوں کے لیے کھل جائے گا۔ ساتھ ہی 500 ارب امریکی ڈالر قیمت کے امریکی سامان درآمد کرنے کا منصوبہ، ہماری توانائی سیکورٹی کو نقصان پہنچانے والے روسی تیل کی خرید پر روک لگانے کا عزم اور ڈیجیٹل محاذ پر کئی ٹیکس رعایتوں کی باتیں مشترکہ بیان میں کہی گئی ہیں۔‘‘

ملکارجن کھڑگے نے ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کو ہندوستان کے لیے محض خسارہ بتایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’وزیر اعظم کو بتانا چاہیے کہ ہندوستان کے قومی مفاد اور اسٹریٹجک خود مختاری سے سمجھوتہ کرنے کے لیے ان پر کس نے دباؤ ڈالا؟ کیا یہ ایسپٹین فائلیں تھیں؟‘‘ انھوں نے یہ سوال بھی کیا کہ کیا حکومت ہند اپنی گہری نیند سے جاگے گی اور ایک غیر جانبدار تجارتی معاہدہ کرے گی، جو 140 کروڑ ہندوستانی شہریوں کے وقار اور ہمارے کسانوں، مزدوروں، چھوٹے کاروباریوں و تاجروں کے مفادات کی حفاظت کرے گا؟

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...