
اجے پال نے کہا کہ اس سے پہلے بھی 3-4 بار ڈی جے کی آواز سے گاؤں کے کئی لوگوں کی جان جاچکی ہے۔ گاؤں میں ہی ایک منویر ماسٹر تھے، ان کی بھی ڈی جے کی تیز آواز سے موت ہوگئی تھی۔ اس کے علاوہ گاؤں کے ہی ایک چچا تھے، ان کی بھی ڈی جے کی آواز سے جان چلی گئی تھی۔ انہیں بھی ہارٹ اٹیک آیا تھا۔ گاؤں میں ہی ایک نواب پردھان کا لڑکا ہریندر تھا، اس کی بھی ڈی جے کی آواز سے ہارٹ اٹیک کے سبب موت موت ہوگئی تھی۔






