
’قومی آواز‘ کے قارئین کو نئے سال کی نیک خواہشات۔ نئے سال کی آمد کو پیش نظر رکھتے ہوئے آپ کے لیے ایک خاص سلسلہ ’سوال اُستاد سے‘ شروع کیا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ انٹرویوز پر مشتمل ہے، جو کہ ہندوستان کی مختلف یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں میں تدریس کی ذمہ داریاں نبھا رہی نوجوان نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ ہر ماہ کے پہلے اور تیسرے ہفتہ کو ایک نئے اُستاد کے تجربات و مشاہدات پر مبنی انٹرویو شائع کیا جائے گا، جس میں متعلقہ کالج یا یونیورسٹی کے ماضی اور حال پر بھی مختصر گفتگو ہوگی۔ انٹرویو کے لیے ایسے اساتذہ کا انتخاب کیا جائے گا، جو اُردو زبان کی خدمت کر رہے ہیں اور جن کا تجربہ 10 سالوں سے زیادہ نہ ہو۔ یعنی اساتذہ کی نئی پود کے نظریات سے ہم واقف ہوں گے۔ ان میں کچھ کورونا وبا سے قبل تدریس کے میدان میں اترنے والے اساتذہ ہوں گے اور کچھ کورونا کے بعد۔ ہماری کوشش ہوگی کہ کورونا کے بعد تدریسی عمل میں ہونے والی تبدیلیاں خاص طور سے گفتگو کا موضوع بنیں۔ ہمارا ارادہ اس سلسلہ کو ایک سال تک جاری رکھنے کا ہے، یعنی ان شاء اللہ 24 اساتذہ کا انٹرویو مختصر، لیکن جامع انداز میں آپ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ انٹرویو کے لیے 20 اساتذہ کا انتخاب کالج و یونیورسٹیوں سے کیا جائے گا، جبکہ 4 اساتذہ اسکول سے ہوں گے۔ اس سلسلہ کا پہلا انٹرویو آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔
ڈاکٹر افشاں بانو بہار کی تاریخی ’پٹنہ یونیورسٹی‘ کے شعبۂ اردو میں بطور استاد اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔ ان کی پیدائش بہار شریف جیسے مقدس شہر میں ہوئی۔ چونکہ والد محمد عقیل احمد نے بزنس کی وجہ سے شہر پٹنہ میں بود و باش اختیار کر لی، اس لیے ڈاکٹر افشاں کا بچپن بھی وہیں گزرا۔ والدہ گلناز بانو اور 5 بھائی بہنوں کے ساتھ گھر میں انھیں تعلیم کا ایک اچھا ماحول ملا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تعلیمی سفر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتا گیا۔






