پنڈت برج نارائن چکبست اور ناقابلِ تسخیر قومی شعور…یومِ پیدائش کے موقع پر

AhmadJunaidJ&K News urduJanuary 19, 2026366 Views


2023 میں پرانے پارلیمنٹ ہاؤس کے خصوصی اجلاس میں راجیہ سبھا کے رکن منوج جھا نے چکبست کی نظم ’خاکِ ہند‘ کے اشعار کا حوالہ دیا اور بتایا کہ 11 دسمبر 1946 کو آئین ساز اسمبلی میں سروجنی نائیڈو نے اپنی تقریر انہی اشعار سے شروع کی تھی، اگرچہ اشعار کی اصل ترتیب کچھ مختلف تھی۔

چکبست کی زندگی مختصر مگر اثرات بے حد وسیع تھے۔ 12 فروری 1926 کو رائے بریلی ریلوے اسٹیشن کے قریب وہ اچانک گر پڑے اور چند گھنٹوں بعد اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اس وقت ان کی عمر محض 44 برس تھی۔

1983 میں ان کی پیدائش کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر ان کا کلیات ’کلیاتِ چکبست‘ کے نام سے شائع ہوا۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان کی جائے پیدائش فیض آباد میں آج بھی ان کی یادوں اور وراثت کے تحفظ پر وہ توجہ نہیں دی جا رہی جس کے وہ مستحق ہیں۔ ایک لائبریری کے سوا، جو میر انیس کے ساتھ ان کے نام سے منسوب ہے، کوئی مؤثر ادارہ ان کے فکری ورثے کو سنبھالنے کے لیے موجود نہیں۔

اس کے باوجود، چکبست کی شاعری آج بھی زندہ ہے، کیونکہ جبر کے ہر عہد میں ان کے اشعار نئی معنویت کے ساتھ سامنے آتے ہیں اور یاد دلاتے ہیں کہ خیال کو بیڑی نہیں پہنائی جا سکتی۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...