کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے جمعرات کو گواہاٹی میں بی جے پی کی قیادت والی آسام حکومت کے خلاف آسام کانگریس کا 20 نکاتی ’فرد جرم‘ جاری کیا۔ اس میں حکومت پر بدعنوانی میں ملوث ہونے اور اقلیتوں میں خوف پیدا کرنے کے لیے سرکاری مشینری کا غلط استعمال کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔
اپوزیشن پارٹی نے اسمبلی انتخاب سے قبل یہ ’فرد جرم‘ جاری کیا ہے۔ کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک دہائی کی حکومت کے باوجود بی جے پی حکومت 6 قبائلی طبقات کو درج فہرست قبائل کا درجہ دلوانے اور چائے باغان کے مزدوروں کی دِہاڑی بڑھا کر 351 روپے کرنے کے اپنے وعدہ کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔
کانگریس نے جاری فرد جرم میں بی جے پی کی قیادت والی آسام حکومت پر ’وسیع بدعنوانی‘ میں غرق ہونے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ پارٹی نے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما اور ان کے قریبی وزراء کے ساتھ ساتھ ان کی فیملی کے اراکین پر ’ناجائز طریقے سے ملکیت جمع کرنے‘ کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ کانگریس نے ان الزامات پر بی جے پی اور ہیمنت بسوا سرما سے جواب بھی طلب کیا ہے۔
اس دوران آسام اسمبلی انتخاب کے پیش نظر کانگریس امیدوار کے اعلان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’ابھی میں سب سے مل رہی ہوں اور ان کے مشورے لے رہی ہوں۔ آئندہ 2 دنوں تک ہم الگ الگ جتنے لوگوں سے مل سکتے ہیں، اُن سے ملیں گے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی مطلع کیا کہ ’’آسام اسکریننگ کمیٹی کے اراکین بھی گزشتہ 5-4 دنوں سے ہر ضلع میں جا رہے ہیں۔ پورا فیڈ بیک لینے کے بعد ہماری کوشش یہی رہے گی کہ اچھے سے انتخاب کے ٹکٹ تقسیم کیے جائیں اور پھر مضبوطی سے انتخاب لڑیں۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ آسام اسمبلی انتخاب کے پیش نظر کانگریس امیدوار سلیکشن کمیٹی کی چیف پرینکا گاندھی جمعرات کو 2 روزہ دورے پر گواہاٹی پہنچیں۔ یہاں پہنچنے پر انھوں نے سب سے پہلے ماں کامکھیا دیوی کے دَرشن کر ان کا آشیرواد لیا۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کچھ تصویریں بھی شیئر کی ہیں۔ انھوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’آسام میں ماں کامکھیا دیوی کا دَرشن کر آشیرواد لیا اور آسام و پورے ملک کے فلاح کے لیے دعا کی۔ ہمارے ہر ہندوستانی باشندہ بھائی-بہن پر ماں کی رحمت بنی رہے۔‘‘ اس دوران کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی ماتا کی چنری اوڑھے، مالا لٹکائے اور پیشانی پر ٹیکا لگائے دکھائی دیں۔ ان کے ساتھ لوک سبھا رکن گورو گگوئی بھی نظر آئے۔
ماں کامکھیا کا دَرشن کرنے کے بعد پرینکا گاندھی ’راجیو بھون‘ پہنچیں، جو آسام پردیش کانگریس کمیٹی کا ہیڈکوارٹر ہے۔ وہاں انھوں نے امیدواروں کے انتخاب سے متعلق کئی اہم میٹنگوں کی صدارت کی۔ کانگریس کے سینئر لیڈران نے کہا کہ پرینکا گاندھی آسام میں امیدواروں کے انتخاب کے عمل پر قریب سے نظر رکھ رہی ہیں۔ پارٹی کے عہدیدار بتا رہے ہیں کہ اس بار امیدواروں کا انتخاب کرنے کے لیے ایسا وسیع اور منظم طریقہ اختیار کیا گیا ہے، جس میں زمینی سطح کے کارکنان اور ضلع سطح کے لیڈران سے تفصیلی مشورے اور جانکاریاں لی جا رہی ہیں۔
آسام کانگریس کے لیڈران نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ پرینکا گاندھی آنے والے مہینوں میں ریاست کے مزید کئی دورے کر سکتی ہیں۔ ان دوروں کا مقصد زمین پر ہو رہی پیش رفت پر نظر رکھنا، الگ الگ علاقوں سے سیاسی مشورے لینا اور انتخابی مہم تیز ہونے پر مرکزی قیادت و ریاستی یونٹ کے درمیان قریبی بات چیت بنائے رکھنا ہوگا۔ کانگریس چاہتی ہے کہ امیدوار کے انتخاب کا کام جلد از جلد مکمل ہو جائے۔ اس لیے سیاسی سرگرمیاں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق مرکزی قیادت سے صلاح و مشورہ کے بعد فروری کے آخر تک آسام اسمبلی انتخاب کے لیے کانگریس امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کی جا سکتی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































