
خبروں کے مطابق جھڑپ کے دوران جماعت کا ایک کارکن زخمی ہوا جب کہ متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔ سندھ کے وزیر اطلاعات نے بتایا کہ انتظامیہ نے پارٹی کو پرامن احتجاج کرنے کی اجازت دی تھی، لیکن ریڈ زون میں داخل نہ ہونے کی تنبیہ کی تھی۔ وزیر نے یہ بھی کہا کہ کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جماعت اسلامی کراچی نے پولیس کی کارروائی کی مذمت کی ہے۔ جماعت نے کہا کہ پارٹی کے مظاہرین کا مقصد کراچی کے عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا تھا، اور پولیس کی کارروائی ناقابل قبول ہے۔






