
جس وقت آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے ممکن ہے پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے بارے میں سرکاری طور پر وضاحت آ چکی ہو۔ اب جبکہ یہ کالم لکھا جا رہا ہے پاکستان میں یہ افواہ گشت کر رہی ہے کہ عمران خان کو قتل کر دیا گیا ہے۔ ان کی بہن نورین نیازی اور ان کے بیٹے قاسم نے ان کی خیریت کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ان کی بہنیں گزشتہ دنوں ان سے ملنے جا رہی تھیں لیکن انتظامیہ نے ان کو ملنے نہیں دیا۔ بعض نیوز ویب سائٹوں نے بھی عمران خان کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ اسی اثنا میں اڈیالہ جیل کے، جہاں عمران خان کو رکھا گیا ہے اور حکومت کے ذرائع نے بتایا ہے کہ عمران خان خیریت سے ہیں۔
راولپنڈی میں واقع اڈیالہ جیل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان جیل میں محفوظ اور صحت مند ہیں۔ جیل ذرائع کے مطابق ہفتہ میں ایک بار عمران خان سے ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ملاقات بھی کروائی جاتی ہے۔ اڈیالہ جیل میں ایک بیرک کے چھ کمرے عمران خان کے زیر استعمال ہیں۔ ان کو ٹی وی اور اخبارات کی سہولت موجود ہے۔ ان کو ہفتہ میں ایک بار باہر سے کھانا منگوانے کی اجازت ہے۔ باہر سے دیسی مرغی اور مچھلی منگوائی جاتی ہے۔ ان سے ملاقاتیں جیل مینوئیل کے مطابق کروائی جاتی ہیں۔ جیل کی حدود میں آنے والے ہر شخص کی ملاقات کروائی جاتی ہے۔ جیل کی حدود سے باہر کے معاملے کی جیل انتظامیہ ذمہ دار نہیں۔





