
واضح رہے کہ آزر کا یہ بیان امریکہ اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اس ہفتے کے آخر میں ایک طویل مدتی معاہدے کو یقینی بنانے کے مقصد سے ثالثی مذاکرات کے لیے پاکستان جانے والے وفد کی قیادت کریں گے۔ جنگ بندی پر بات کرتے ہوئے آزر نے کہا کہ اسرائیل کو امید ہے کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں ’2 وجودی خطرات‘ یعنی ایران کے ایٹمی پروگرام اور اس کی بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا ہدف ایرانی حکومت کو کمزور کر کے ایرانی عوام کو اپنے مستقبل کو سنوارنے کا موقع دینا تھا، اور انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہم نے اسے حاصل کر لیا ہے۔






