پارلیمانی ضابطوں اور روایات سے روگردانی تشویش ناک ہے…سہیل انجم

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 8, 2026363 Views


پارلیمانی نظام حکومت میں جہاں پارلیمانی اجلاس کی کارروائی چلانے کے لیے ضابطہ ہوتا ہے وہیں پارلیمانی روایات بھی ہوتی ہیں اور اپنی اپنی جگہ پر ان دونوں کی اہمیت ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ برسوں سے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ ضابطوں کی بھی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور روایات کی بھی۔ پارلیمانی ضابطے کے مطابق جب صدر جمہوریہ پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہیں تو اس پر پیش کی جانے والی شکریہ کی تحریک پر بحث ہوتی ہے اور آخر میں وزیر اعظم بحث کا جواب دیتے ہیں۔ اس کے بعد ہی شکریہ کی تحریک منظور کی جاتی ہے۔

لیکن رواں سال کا بجٹ پیش کیے جانے کے بعد جب صدر دروپدی مورمو نے ایوان سے خطاب کیا اور اس کے بعد جب اس پر بحث شروع ہوئی تو ایک تو حزب اختلاف کے قائد اور سینئر کانگریس رہنما راہل گاندھی کو بولنے نہیں دیا گیا اور دوسرے یہ کہ وزیر اعظم جواب دینے کے لیے لوک سبھا میں آئے ہی نہیں۔ انھوں نے راجیہ سبھا میں تو ایک گھنٹے کی تقریر کی لیکن لوک سبھا سے غائب رہے۔ وہ لوک سبھا میں کیوں نہیں آئے اس پر کانگریس کا کہنا ہے کہ ان کے پاس راہل گاندھی کے اٹھائے گئے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔ انھوں نے چینی افواج کی جانب سے ہندوستانی افواج پر ہونے والے حملے کے سلسلے میں سوالات اٹھائے تھے۔ یہ سوالات انھوں نے اپنی جانب سے نہیں گھڑے بلکہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی کتاب کے حوالے سے اٹھائے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...