پائلٹ یونین کی اپیل- سکیورٹی وجوہات کی بنا پر خلیجی علاقوں میں پروازیں معطل کرے ڈی جی سی اے

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 30, 2026357 Views


ایئرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن آف انڈیا نے شہری ہوا بازی کی وزارت کے سکریٹری اور ڈی جی سی اے کو لکھے گئے خط میں مسافروں، فضائی عملے اور طیاروں کی حفاظت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی فعال جنگی علاقے کے اندر یا اس کے بہت قریب پروازیں چلانا انسانی جانوں کو جان بوجھ کر خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

علامتی تصویر: پی ٹی آئی

نئی دہلی: مغربی ایشیا کے بحران کے پیش نظر ہندوستان کی ایک بڑی پائلٹ تنظیم نے حکومت اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) سے اپیل کی ہے کہ خلیجی ممالک کے زیادہ جوکھم والے علاقوں میں پروازوں کا آپریشن اس وقت تک معطل رکھا جائے جب تک کہ ایک سینٹرلائزڈ اور آفیشیل خطرے کا جائزہ نہیں لے لیا جاتا۔

دی ٹیلی گراف کی خبر کے مطابق، ایئرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن آف انڈیا (اے ایل پیاے) نے شہری ہوا بازی کی وزارت کے سکریٹری اور ڈی جی سی اے کو لکھے گئے خط میں مسافروں، فضائی عملے اور طیاروں کی سلامتی کو لاحق خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ مطالبہ کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ خلیجی خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث فضائی حدود میں اکثر رکاوٹیں دیکھی گئی ہیں۔ پائلٹ یونین کے خط میں تین ایسے واقعات کا ذکر کیا گیا ہے جن میں ماضی کے تنازعات کے دوران امریکہ، اسرائیل اور ایران جیسے فریقین نے شہری طیاروں کو مار گرایا تھا۔

یونین کے مطابق، 1973 میں اسرائیل نے لیبیائی عرب ایئرلائنز کی پرواز 114 کو مار گرایا تھا، جبکہ امریکہ نے 1988 میں ایران ایئر فلائٹ 655 کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کے علاوہ 2020 میں ایران نے یوکرین انٹرنیشنل ایئرلائنز کی پرواز 752 کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ ان تینوں مواقع پر متعلقہ ممالک نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے طیاروں کو غلطی سے دشمن میزائل سمجھ لیا تھا۔

اپنے خط میں پائلٹ یونین نے خلیجی خطے میں کمرشل ایئرلائنز کی پروازوں پر تشویش ظاہر کی ہے اور یاد دہانی کرائی ہے کہ اس سے قبل بھی وہ 18 مارچ کو ڈی جی سی اے کو لکھے گئے خط میں یہ معاملہ اٹھا چکے ہیں۔

اس وقت تنظیم نے حفاظتی اقدامات پر فوری وضاحت اور حال ہی میں دی گئی فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لمٹیشن (ایف ڈی ٹی ایل) میں رعایت کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس میں مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے باعث توسیعی پروازی راستوں کے دوران بڑھتی ہوئی تھکن سے متعلق خدشات کا بھی حوالہ دیا گیا تھا۔

اس کے جواب میں ڈی جی سی اے نے 19 مارچ کو ایک فوری سکیورٹی ایڈوائزری جاری کیا تھا، جس میں ایئرلائنز کو اپنے طور پر خطرے کا جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی تھی۔ تاہم، یونین کا کہنا ہے کہ فعال جنگی علاقوں میں خطرات کا اندازہ لگانے کے لیے ایئرلائنز کے پاس ضروری خفیہ معلومات، نگرانی کی صلاحیت یا جیو پولیٹکل خطرے کے تجزیے کا مناسب ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔

اے ایل پی اےانڈیا نے اپنے خط میں لکھا، ’فعال جنگی علاقے میں یا اس کے قریب پروازیں چلانا مسافروں، عملے اور طیاروں کی حفاظت کے لیے ایک سنگین اور ناقابل قبول خطرہ ہے۔ ہمارے خیال میں ایسے فیصلے انسانی جانوں کو جان بوجھ کر خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہیں۔‘

یونین کا کہنا ہے کہ اس ذمہ داری کو الگ الگ آپریٹروں پر چھوڑ دینے سے ایک مضبوط اور یکساں حفاظتی نظام کی عدم موجودگی میں، فضائی عملے اور مسافروں کو سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے پائلٹ یونین نے شہری ہوا بازی کی وزارت اور ڈی جی سی اے سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔

یونین نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی جی سی اے فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لے اور سینٹرلائزڈ اور سرکاری خطرے کے جائزے تک نشاندہی کیے گئے زیادہ خطرناک جنگی علاقوں، خاص طور پر بگڑتی صورتحال کے پیش نظر، پروازوں کے آپریشن معطل کرے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...