یہ حادثہ 27 ستمبر کو اس وقت پیش آیا جب وجے کی ریلی میں اچانک بجلی گل ہو گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق اندھیرا چھا جانے پر لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شرکا متبادل بجلی کے انتظامات اور نکاس کے دروازوں کی طرف بھاگنے لگے۔ اسی دوران بھگدڑ مچ گئی جس میں خواتین اور بچوں سمیت 41 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 110 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 51 زخمی صحتیاب ہو چکے ہیں۔
ابتدا میں اس معاملے کی تفتیش کرور کے پولیس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سیلوراج کے سپرد کی گئی تھی، تاہم بعد میں ریاستی پولیس کے اعلیٰ حکام نے انہیں ہٹا کر ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پریمانند کو انکوائری کا ذمہ دیا۔ پولیس نے اس کیس میں انسانی جان کو خطرے میں ڈالنے، عوامی نظم کی خلاف ورزی اور دیگر سنگین الزامات کے تحت پانچ دفعات میں مقدمہ درج کیا ہے۔






