
جب لٹنک سے ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پوسٹ کے بارے میں پوچھا ، جس میں امریکی صدر نے لکھا تھا کہ ‘ایسا لگتا ہے کہ ہم نے ہندوستان کو روس اور چین کے ہاتھوں کھو دیا ہے، ان کا مستقبل طویل اور خوشحال ہو سکتا ہے’، تو انہوں نے جواب دیا کہ روس یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد، ہندوستان نے روس سے اپنی تیل کی درآمدات 2 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد سے زیادہ کر دیں۔ روسی تنازع سے پہلے ہندوستان روس سے 2 فیصد سے بھی کم تیل خریدتا تھا لیکن اب یہ بڑھ کر 40 فیصد سے زیادہ ہو گیا ہے، چونکہ روسی تیل پر پابندی ہے، یہ بہت سستا ہے اور روس اسے بیچنے کے لیے خریدار کی تلاش میں تھا،تو ہندوستان نے سوچا ٹھیک ہے، چلو اس سے سستا تیل خرید کر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسے مکمل طور پر غلط اور مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے لٹنک نے کہا کہ ہندوستان کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس طرف رہنا چاہتا ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے تو انھوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ (انپٹ بشکریہ نیوز پورٹل ’آج تک‘)






