
دوسری جانب یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلینسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس ایران کو جنگ میں خفیہ معلومات فراہم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے شواہد بڑھتے جا رہے ہیں اور روسی حکومت ایران کی مدد جاری رکھے ہوئے ہے، جو خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا رہی ہے۔ زیلینسکی کے مطابق یہ تعاون جنگ کو طول دینے کا سبب بن رہا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کیا تھا کہ اگر 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر تجارتی جہاز رانی کے لیے نہ کھولا گیا تو ایران کے پاور پلانٹس کو مکمل تباہ کر دیا جائے گا۔ تاہم بعد میں یعنی کل انہوں نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی بات چیت کو مثبت قرار دیتے ہوئے 5 دن تک حملے روکنے کا اعلان بھی کیا۔






