
یہ جنگ چین کے اس بیانیے کو بھی تقویت دیتی ہے کہ امریکہ ایک غیر مستحکم اور جارحانہ طاقت ہے۔ اس تاثر کے نتیجے میں دنیا کے وہ ممالک جو مغربی غلبے سے نجات چاہتے ہیں، چین کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ اس طرح یہ تنازع صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن چکا ہے۔
ٹرمپ کی خارجہ پالیسی نے ان پیچیدہ حالات کو مزید الجھا دیا ہے۔ نیٹو اور کواڈ جیسے اہم اتحادوں کو کمزور کرنے کی کوشش اور یکطرفہ فیصلے کرنے کی عادت نے امریکہ کے روایتی اتحادیوں کو بھی غیر یقینی صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی چین کے حوالے سے متضاد رویہ—کبھی سختی اور کبھی نرمی—امریکی پالیسی کو غیر واضح بنا دیتا ہے۔
اس غیر مستقل مزاجی نے امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے اور اس کی پالیسیوں کی تاثیر کو کم کیا ہے۔ ایک وقت تھا جب امریکہ خود کو عالمی نظام کا محافظ اور اصولوں کا علمبردار قرار دیتا تھا، مگر اب یہ دعویٰ کمزور پڑ چکا ہے۔






