
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو بحری آمد و رفت کے لیے دوبارہ نہیں کھولا گیا تو ایرانی توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس بیان کے فوراً بعد عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا ہوئی اور خام تیل کی قیمتیں اوپر چلی گئیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ امریکی خام تیل بھی 113 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا۔
آبنائے ہرمز، جو ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک نہایت اہم سمندری راستہ ہے، عالمی تیل تجارت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ فوری طور پر عالمی منڈیوں کو متاثر کرتی ہے۔






