
دوسری جانب امریکی محکمہ انصاف (ڈی او جے) کے وکلا نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین نے وفاقی اہلکاروں پر حملے کیے اور حالات “جنگ زدہ شہر” جیسے بن گئے تھے۔ ان کے مطابق، “مہینوں سے ہمارے اہلکاروں پر حملے ہو رہے ہیں اور صدر نے صرف ان کی حفاظت کے لیے اقدام کیا۔”
پروسیڈنگ کے دوران پورٹ لینڈ کی وکیل کیرولین ٹورکو نے استدلال کیا کہ ’’یہ کیس اس بات کا امتحان ہے کہ کیا ہم آئینی قانون کے ملک ہیں یا مارشل لا کے۔‘‘
فیصلے کے بعد ڈیموکریٹ رہنماؤں نے کہا کہ ٹرمپ نے وہ فوجی اختیارات استعمال کیے جو دراصل بیرونی حملے یا حقیقی بغاوت کی صورت میں بروئے کار لائے جاتے ہیں۔ جج ایممرگٹ کے اس حکم نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ آئین کے دائرے میں صدر کی طاقت محدود ہے۔






