
ٹرمپ نے 10 جولائی کو کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کو بھیجے گئے ایک سرکاری خط میں اس فیصلے کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے لکھا کہ امریکہ کینیڈا کے ساتھ تجارتی تعلقات جاری رکھنا چاہتا ہے، مگر کینیڈا نے امریکہ کی طرف سے لگائے گئے ٹیرف کے جواب میں بھی اپنے اقدامات کیے جو ناقابل قبول ہیں۔
صدر ٹرمپ نے الزام لگایا کہ امریکہ میں فینٹانائل نامی خطرناک نشہ آور دوا کا پھیلاؤ جزوی طور پر کینیڈا کی ناکامی کا نتیجہ ہے، جو اپنی سرحد سے امریکہ میں ان منشیات کی آمد کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے لکھا، ’’یہ مسئلہ ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہے اور ہم اب اس سے چشم پوشی نہیں کر سکتے۔‘‘






